Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
446 - 857
آيا، وہ اس کی قبر پر آئے اور لوگوں کے چلے جانے کے بعد اسے کھودنے لگے، انہوں نے قبر ميں بھڑکتی ہوئی آگ دیکھی تو مٹی ڈال کر روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی ''اے امی جان!مجھے میری بہن کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیا عمل کرتی تھی؟'' والدہ صاحبہ نے کہا!''تم اس کے بارے میں کیا جاننا چاہتے ہو؟انہوں نے عرض کی :''امی جان ميں نے اس کی قبر پردہکتی ہوئی آگ ديکھی ہے۔'' يہ سن کر وہ روتے ہوئے بولی :'' بيٹا! تمہاری بہن نمازمیں سستی کرتی تھی اور اسے وقت گزار کر پڑھا کرتی تھی۔'' 

    جب وقت گزار کر نماز پڑھنے کا يہ حال ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو سرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں۔ہم اللہ عزوجل سے تمام آداب و کمالات اور وقت کی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے کی توفيق مانگتے ہيں بے شک وہ جواد و کريم اور رء ُ وف ورحيم ہے۔(آمين بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
 (المرجع السابق،ص۲۶)
تنبیہات

تنبیہ1:
    نماز نہ پڑھنے يابلا عذر اسے وقت سے پہلے ياوقت گزار کرپڑھنے کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے اس کی وجہ شيخين کا وہ قول ہے جسے انہوں نے صَاحِبُ الْعُدَّۃ سے نقل کر کے برقرار رکھا اور ''اَلْاَنْوَار ''ميں جو''دھرائے بغیر''کی قيد کا اضافہ کيا گيا ہے (یعنی اس وقت گناہ کبیرہ ہے جبکہ نماز نہ دہرائے)وہ اپنے محل ميں نہيں کيونکہ قبل اداکرنے کی صورت ميں وہ جان بوجھ کر دين سے مذاق کرنے والا ہو گا اگرچہ وقت ميں اعادہ بھی کر لے، جبکہ ''اَلْاِسْنَوِی''کا يہ قول کہ شيخين کا نماز کو وقت سے مقدم کرنے کا قول تحقيق شدہ نہيں کيونکہ اگر وہ اس کے جواز کا اعتقاد رکھتا ہو تو اس ميں کوئی کلام نہيں اور اگر وہ جانتا ہو کہ ايسا کرنا منع ہے تو اس کی نماز فاسد ہے اور ايسی صورت ميں اگر اس نے وقت ميں نماز پڑھی تو اس کا يہ عمل حرام ہے کيونکہ اس نے فاسد طور پر نماز ادا کی، لہٰذا اس کا لحاظ رکھنا چاہے اور اس شاذو نادر صورت پر اقتصار نہيں کرنا چاہے، اگر اس نے وقت پر نماز ادا نہ کی تو تاخير اور فاسد نماز کے سبب گناہ گار ہو گا اور يہ بات بھی اپنے محل ميں نہيں۔

    اسی لئے سیدنا اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمايا :''انہوں نے جو بات ذکر کی ہے وہ ايسی بے تکی بات ہے جس پر اضافہ کی گنجائش نہيں صَاحِبُ الْعُدَّۃ وغيرہ کے نماز کو وقت سے مقدم کرنے (کے قول ) سے مراد یہ ہے کہ وہ وقت کے داخل نہ ہونے کو جاننے کے باوجود نماز کو وقت سے مقدم کر کے ادا کرے اور ايسا کرنا جائز نہيں يہ وہ بات تھی جس کا تقاضا ائمہ کرام رحمہم اللہ
Flag Counter