| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
سزا ميں؟'' اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا :''نماز کو ان کے اوقات سے مؤخر کرنے اور ميرے نام کی جھوٹی قسميں کھانے کی وجہ سے۔''
(المرجع السابق،ص۲۵)
(40)۔۔۔۔۔۔بعض محدثین کرام رحمہم اللہ تعالی نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ايک دن اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ارشاد فرمايا :''دعا کرو، اے اللہ عزوجل !ہم ميں سے کسی کوبدبخت اور محروم نہ رہنے دے۔'' پھر ارشاد فرمايا :''کيا تم جانتے ہو محروم اور بدبخت کون ہے؟'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کون ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''نماز چھوڑنے والا۔''
(المرجع السابق، ص ۵ ۲)
(41)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قيامت کے دن سب سے پہلے نماز چھوڑنے والوں کے چہرے سياہ ہوں گے اور بے شک جہنم ميں ايک وادی ہے جسے لَمْلَمْ کہا جاتا ہے، اس ميں سانپ ہيں اور ہر سانپ اونٹ جتنا ہے، اس کی لمبائی ايک مہينے کی مسافت جتنی ہے، جب وہ بے نمازی کو ڈسے گا تو اس کا زہر 70سال تک اس کے جسم ميں جوش مارتا رہے گا پھر اس کا گوشت گل کر ہڈی سے الگ ہو جائے گا۔''
(المرجع السابق،ص۲۶)
(42)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''بنی اسرائيل کی ايک عورت نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ ميں حاضر ہو کر عرض کی:''اے اللہ عزوجل کے نبی عليہ الصلوٰۃو السلام! ميں نے ايک بہت بڑا گناہ کيا ہے اور ميں اللہ عزوجل کی بارگاہ ميں توبہ بھی کر چکی ہوں، آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ عزوجل کی بارگاہ ميں دعا فرمائيں کہ وہ ميرا گناہ معاف فرما کر ميری توبہ قبول فرمالے۔'' حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس سے دریافت فرمایا :''تيرا گناہ کيا ہے ؟'' تو وہ بولی: ''ميں نے زنا کيا پھر اس سے جو بچہ پيدا ہوا ميں نے اسے قتل کر ديا۔'' اس پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس سے فرمايا :''اے بدکار عورت! يہاں سے چلی جا، کہيں آسمان سے آگ نازل نہ ہو جائے، اور تيری بدعملی کے سبب ہم بھی اس کی لپٹ ميں نہ آ جائيں۔'' وہ عورت شکستہ دل لئے وہاں سے جانے لگی تو حضرت جبرائيل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کی :''اے موسیٰ علیہ السلام آپ کا رب عزوجل آپ سے ارشاد فرماتا ہے کہ'' آپ نے اس توبہ کرنے والی عورت کو واپس کیوں لوٹا دیا؟ کيا آپ نے اس سے بدتر کسی کو نہ پايا؟'' تو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمايا :''اے جبرائيل! اس سے بدتر کون ہو گا ؟'' تو انہوں نے عرض کی: ''جو جان بوجھ کر نماز ترک کر دے۔''
(کتاب الکبائر،ص۲۶)
سلف صالحین ميں سے کسی بزرگ رحمۃاللہ تعالی علیہ سے منقول ہے کہ ان کی بہن کا انتقال ہو گيا جب وہ اسے دفنانے لگے تو ان کی پوٹلی جس ميں کچھ پونجی جمع تھی قبر ميں گر گئی، دفنا کر لوٹنے تک وہ اس سے بے خبر رہے، جب واپس لوٹ آئے تو انہيں ياد