Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
447 - 857
تعالیٰ کے ايک گروہ کا کلام کرتا ہے اور اس ميں کوئی نزاع نہيں اور بلاشبہ يہ عمل کبيرہ گناہ اور دين سے ہنسی مذاق کرنا ہے خواہ اس نے بعد ميں نماز کی قضاکی ہو یانہ کی ہو ۔ 

    اور''اَلتَّہْذِيْب ''ميں جو ایک وجہ بیان کی گئی ہے وہ ضعیف ہے کہ ايک ضعيف حکايت ہے :''ايک مرتبہ نماز کو اتنی دير تک ادا نہ کرنا کہ اس کا وقت گزر جائے کبيرہ گناہ نہيں اور اس عمل سے گواہی اسی وقت مردود ہو گی جبکہ وہ اسے عادت بنا لے۔'' 

    سیدنا حليمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہيں :''نماز ترک کرنا کبيرہ گناہ ہے اور اگر کوئی اس کی عادت بنا لے تو يہ زيادہ برا ہے اور اگر کسی نے نماز پڑھی مگر اس کے خشوع کا حق ادا نہ کيا مثلاً اِدھر اُدھر متوجہ رہا يا اپنی انگلياں چٹخاتا رہا يا لوگوں کی باتيں توجہ سے سنيں يا پتھر ہٹائے يا داڑھی کو باربار چھوتا رہا تو(نماز میں) يہ اعمال صغيرہ گناہ ہيں۔''

    سیدنا اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہيں :''امام حلیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علاوہ دیگر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا کلام اعمال کے مکروہ ہونے کا تقاضا کرتا ہے ۔'' اسے ا ن کے قول کی طرف پھيرنا زيادہ مناسب ہے، يہ بات خشوع کے اسباب کے زيادہ موافق ہے لہٰذا خشوع کے منافی ہر بات کا يہی حکم ہے تاکہ نماز کا کوئی حصہ حرام نہ ہو جبکہ صحيح ترين قول يہ ہے کہ خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنا سنت ہے لہٰذا ان ميں سے کوئی عمل حرام نہيں۔
تنبیہ2:              نماز ترک کرنا کفرہے یا نہیں ؟
    حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان اور ان کے بعد کے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا بے نمازی کے کافر ہونے کے بارے ميں اختلاف ہے اور گذشتہ کئی احادیثِ مبارکہ ميں بے نمازی کے کفر، شرک اور ملتِ اسلاميہ سے خارج ہونے کی تصريح کی گئی ہے مثلاً ''بے نمازی سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذمۂ کرم اُٹھ گیا ، اس کے اعمال برباد ہو گئے، اس کا کوئی دين نہيں اور اس کا کوئی ايمان نہيں وغيرہ وغیرہ۔ ''بہت سے صحابہ کرام،تابعين اور ان کے بعد کے ائمہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان احادیثِ مبارکہ کے ظاہری معنی کو اختيار کيا اور فرمايا :''جو شخص جان بوجھ کر نماز کو اتنی دير تک مؤخر کر ے کہ نماز کا پورا وقت گزر جائے وہ کافر ہے، اسے قتل کر ديا جائے۔''
بے نمازی کے کفرکے قائل صحابہ کرام علیہم الرضوان:
    جو صحابہ کرام علیہم الرضوان بے نمازی کے کفراور اس کے قتل کے جائز ہونے کے قائل ہیں:امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سيدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت سيدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سيدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سيدنا جابر بن عبد اللہ
Flag Counter