Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
444 - 857
    دنیا میں ملنے والی سزائیں يہ ہيں: (۱)اس کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی (۲) اس کے چہرے سے صالحين کی علامت مٹا دی جائے گی (۳)اللہ عزوجل اسے کسی عمل پر ثواب نہ دے گا (۴)اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی اور (۵)صالحين کی دعاؤں ميں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا ۔

     موت کے وقت دی جانے والی سزائیں یہ ہیں (۱) وہ ذليل ہو کر مرے گا (۲)بھوکا مرے گا اور(۳)پياسا مرے گا اگرچہ اسے دنيا بھر کے سمندر پلا دئيے جائيں پھر بھی اس کی پياس نہ بجھے گی ۔

    بے نمازی کو قبر میں دی جانے والی سزائیں یہ ہیں(۱) اس کی قبر کو اتنا تنگ کر ديا جائے گا کہ اس کی پسلياں ايک دوسرے ميں پيوست ہو جائيں گی (۲)اس کی قبر ميں آگ بھڑکا دی جائے گی پھر وہ دن رات انگاروں پر لوٹ پوٹ ہوتا رہے گا اور (۳)قبر ميں اس پرايک اژدھا مسلط کر ديا جائے گا جس کا نام اَلشَّجَاعُ الْاَقْرَع ہے، اس کی آنکھيں آگ کی ہوں گی جبکہ ناخن لوہے کے ہوں گے، ہر ناخن کی لمبائی ايک دن کی مسافت تک ہو گی، وہ ميت سے کلام کرتے ہوئے کہے گا: ''ميں اَلشَّجَاعُ الْاَقْرَع يعنی گنجا سانپ ہوں۔'' اس کی آواز کڑک دار بجلی کی سی ہو گی، وہ کہے گا :''ميرے رب عزوجل نے مجھے حکم ديا ہے کہ نمازِ فجر ضائع کرنے پرطلوع آفتاب کے بعد تک مارتا رہوں اور نمازِ ظہر ضائع کرنے پر عصر تک مارتارہوں اور نمازِ عصر ضائع کرنے پر مغرب تک مارتا رہوں اور نمازِ مغرب ضائع کرنے پر عشاء تک مارتا رہوں اور نمازِ عشاء ضائع کرنے پر فجر تک مارتا رہوں۔'' جب بھی وہ اسے مارے گا تو وہ 70ہاتھ تک زمين ميں دھنس جائے گا اور وہ قيامت تک اس عذاب ميں مبتلا رہے گا ۔

     قبر سے نکلتے وقت ميدان محشر ميں ملنے والی سزائیں: (۱)وہ حساب کی سختی (۲)ربِّ قہار عزوجل کی ناراضگی اور (۳)جہنم ميں داخلہ ہيں۔''
   (کتاب الکبائرللامام الحافظ الذہبی،فصل فی المحافظۃ علی الصلوات والتہاون بہا،ص۲۴)
وضاحت: اس حدیثِ پاک ميں عدد کی جو تفصيل بيان کی گئی ہے وہ 15کے عدد کو پورا نہيں کرتی کيونکہ تفصيل 14سزاؤں کی بيان ہوئی ہے شايد راوی پندرہويں سزا بھول گئے۔

(38)۔۔۔۔۔۔ايک اور روايت ميں ہے :''جب وہ قيامت کے دن آئے گا تو اس کے چہرے پر تین سطریں لکھی ہو ں گی:(۱)اے اللہ عزوجل کا حق ضائع کرنے والے (۲)اے اللہ عزوجل کے غضب کے ساتھ مخصوص اور (۳)جس طرح تُو نے د نیا میں اللہ عزوجل کا حق ضائع کيا تو آج توبھی اللہ عزوجل کی رحمت سے مايوس ہو جا۔''
        (المرجع السابق،ص۲۵)
 (39)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہيں :''جب قيامت کا دن آئے گا توايک شخص کو اللہ عزوجل کی بارگاہ ميں لا کرکھڑاکيا جائے گا، اللہ عزوجل اسے جہنم ميں لیجانے کا حکم فرمائے گا تو وہ عرض کریگا :''يا رب عزوجل! کس جرم کی
Flag Counter