| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(33)۔۔۔۔۔۔امير المؤمنين حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ايک شخص نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں حاضر ہو کر عرض کی :''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اسلام کا کونسا عمل اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ پسند ہے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''وقت پر نماز پڑھنا اور جو شخص نماز چھوڑ دے اس کا کوئی دين نہيں اور نماز دين کا ستون ہے۔''
( السنن الکبری للبیہقی،کتا ب الصلاۃ ، باب التر غیب فی حفظ وقت الصلاۃ ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۳۱۶۵، ج ۲،ص ۳۰۴، مختصرا )
(34)۔۔۔۔۔۔ جب امير المؤمنين حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کيا گيا تو ان سے کہا گيا :''اے امير المؤمنين رضی اللہ تعالیٰ عنہ! نماز (کا وقت ہے)۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمايا :''يہ ايک نعمت ہے اور جس نے نماز کو ضائع کيا اس کا اسلام ميں کوئی حصّہ نہيں۔'' پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز ادا فرمائی حالانکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔
(کتاب الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۲۲،''نعمۃ''بدلہ''نعم'')
(35)۔۔۔۔۔۔مَحبوب رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب بندہ اوّل وقت ميں نماز ادا کرتا ہے تو وہ آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے اور عرش تک اس کے ساتھ ايک نور ہوتا ہے، پھر وہ قيامت تک اس نمازی کے لئے استغفار کرتی رہتی ہے اور اس سے کہتی ہے :''اللہ عزوجل تيری اسی طرح حفاظت فرمائے جس طرح تُو نے ميری حفاظت فرمائی۔'' اور جب بندہ وقت گزار کر نماز پڑھتا ہے تو وہ تاريکی ميں ڈوب کر آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے پھر جب وہ آسمان پر پہنچ جاتی ہے تو بوسيدہ کپڑے ميں لپيٹ کر اس نمازی کے منہ پر مار دی جاتی ہے۔''
( کنز العمال،کتاب الصلوۃ ، الحدیث ۱۹۲۶۳،ج ۷، س ۱۴۷،بتغیرٍقلیلٍ)
(36)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تین شخص ایسے ہيں کہ جن کی نماز اللہ عزوجل قبول نہيں فرماتا۔
اور ان ميں اس شخص کا ذکر فرمايا جو وقت گزار کر نماز پڑھتا ہے۔
(37)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو نماز کی پابندی کریگا اللہ عزوجل پانچ باتوں کے ساتھ اس کا اکرام فرماے گا: (۱)اس سے تنگی اور (۲)قبر کا عذاب دور فرمائے گا(۳ )اللہ عزوجل نامۂ اعمال اس کے دائيں ہاتھ ميں دے گا (۴)وہ پل صراط سے بجلی کی تيزی سے گزر جائے گا اور (۵)جنت ميں بغير حساب داخل ہو گا اور جو نماز کو سستی کی وجہ سے چھوڑے گااللہ عزوجل اسے پندرہ سزائیں دے گا:پانچ دنيا ميں،تین موت کے وقت،تین قبر ميں اورتین قبر سے نکلتے وقت۔