| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
''میرے بندے کی نماز کو دیکھو کیا یہ مکمل ہے يا ناقص؟ اگر وہ کامل ہو گی تو کامل لکھ دی جائے گی اور اگر اس نے اس میں کچھ کوتاہی کی ہو گی تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا:''میرے بندے کے نوافل دیکھو اگر اس کے پاس کچھ نوافل ہوں تو ان سے اس کے فرائض کو پورا کر دو۔'' پھر اسی طرح بقیہ اعمال کا بھی حساب ہو گا۔''
( سنن ابی داؤد ،کتاب الصلاۃ ، باب قول النبی کل صلاۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۸۶۴، ص ۱۲۸۷)
(28)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :ميرے پاس اللہ عزوجل کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کی :يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ ''ميں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اُمت پر پانچ نمازيں فرض فرمائی ہيں جو انہيں ان کے وضو، اوقات، رکوع اور سجود کی رعايت کرتے ہوئے ادا کریگا تو اسے جنت ميں داخل کرنا ميرے ذمۂ کرم پر ہے اور جو ان ميں سے کسی چيز ميں کوتاہی کر کے مجھ سے ملے گا اس کے لئے ميرے ذمۂ کرم پر کچھ نہيں، اگر ميں چاہوں گا تو اسے عذاب دوں گا اور اگر چاہوں گا تو اس پر رحم فرماؤں گا۔''
( کنز العمال ،کتاب الصلاۃ ، الحدیث ۱۸۸۷۶ ، ج۷ ، ص ۱۱۴)
(29)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''نماز کے لئے ميزان مقرر ہو گی جس نے اسے پورا کيا وہ پورا بدلہ لے گا۔''
( شعب الایمان ،باب فی الصلوات/ تحسین الصلاۃ والاکثارمنہا،الحدیث:۳۱۵۱،ج۳،ص۱۴۷ )
(30)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''نماز شيطان کا منہ کالا کرتی ہے، صدقہ اس کی کمر توڑتا ہے اوراللہ عزوجل کے لئے محبت اور علم کے معاملے ميں مودّت اس کی دم کاٹ دیتی ہے، لہٰذا جب تم یہ (اعمال)کرتے ہو تو وہ تم سے اس قدر دور ہو جاتا ہے جيسے سورج کے طلوع ہونے کی جگہ اس کے غروب ہونے کی جگہ سے دور ہے۔''
( فردو س الاخبارللدیلمی،حرف باب الصاد،الحدیث:۳۶۱۵، ج۲ ،ص۳۰)
(31)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دل کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل سے ڈرو، اپنی پانچ نمازيں ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اموال کی زکوٰۃ ادا کرو اور جب ميں تمہيں کوئی حکم دوں تو اس کی پيروی کرو اپنے رب عزوجل کی جنت ميں داخل ہو جاؤ گے۔''
( جامع الترمذی ، ابواب السفر،باب منہ،الحدیث ۶۱۶، ص ۱۷۰۶ )
(32)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کے نزديک سب سے پسنديدہ عمل وقت پر نماز پڑھنا ہے پھر والدين کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور پھر راہِ خدا عزوجل ميں جہاد کرنا ہے۔''
( صحیح البخاری ،کتاب المواقیت الصلاۃ ، باب فضل الصلاۃ لوقتھا ، الحدیث ۵۲۸، ص۴۴)