| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
( سنن النسائی ،کتاب المحاربۃ ، باب تعظیم الدم ، الحدیث۳۹۹۶ ، ص ۲۳۴۹ )
بروزقیا مت فرائض کی کمی نوافل سے پوری کی جائے گی :
(23)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''بندے کا قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب ہو گا وہ نماز ہے، اگر وہ مکمل ہوئی تو اس کے لئے کامل ہونا لکھ دیا جائے گا اور اگر وہ مکمل نہ ہوئی تو اللہ عزوجل اپنے فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا :''ذرا دیکھو تو کیا تم میرے بندے کے پاس نوافل پاتے ہو؟'' لہذا وہ اس بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے مکمل فرما دیں گے، پھر زکوٰۃ کا اسی طرح حساب ہو گا اور اس کے بعد بقیہ اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہو گا۔''
(سنن النسائی،کتاب الصلاۃ ،باب المحاسبۃ علی الصلاۃ ،الحدیث ۶۶۷،ص۲۱۱۷بتغیرٍقلیلٍ )
(24)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سب سے پہلے قیامت کے دن بندے سے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر وہ کامل ہوئی تو کامل لکھ دی جائے گی اور اگر مکمل نہ ہوئی تو اللہ عزوجل اپنے فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا: کیا تم میرے بندے کے پاس کوئی نفل پاتے ہو۔ تو وہ اس کے فرائض کو اس کے نوافل کے ذریعے پورا کر دیں گے پھر اسی طرح زکوٰۃ اور دیگر اعمال کا حساب لیا جائے گا۔''
( سنن ابی داؤد ، کتاب الصلاہ ، باب قول النبی علیہ السلام کل صلاۃ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث ۸۶۴، ص ۱۲۸۷،''مختصرًا'')
(25)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا وہ یہ کہ اس کی نماز دیکھی جائے گی اگر وہ صحیح ہو گی تو وہ نجات پا جائے گا اور اگروہ صحیح نہ ہوئی تو وہ خائب و خاسر ہو گا۔''
( المعجم الاوسط ، الحدیث ، ۳۷۸۲ ،ج ۳ ، ص ۳۲ )
(26)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا اگر وہ صحیح ہو ئی تو بقیہ سار ے ا عمال بھی صحیح ہو جائیں گے اور اگر صحیح نہ ہوئی تو بقیہ سارے بھی برباد ہو جائیں گے پھر اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا :''دیکھو کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفلی عبادت بھی ہے؟'' تو اگر اس کے پاس نفل ہوئے تو ان سے فرضوں کو پورا کردے گا اور پھر اس کے بعد اللہ عزوجل کی رحمت سے دوسرے فرائض کا حساب ہوتا رہے گا۔''
(کنزالعمال،کتاب الصلاۃ ، قسم الاقوا ل،باب فی فضل الصلوۃوجوبھا،الفصل الاول،الحدیث:۱۸۸۸۴،ج۷،ص۱۱۵)
(27)۔۔۔۔۔۔خاتَم ُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن بندوں سے ان کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا، تو اللہ عزوجل اپنے فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے: