| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
بچے ؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :''مشرکين کے بچے بھی۔'' اور وہ لوگ جن کا نصف بدن خوبصورت اور نصف بدصورت تھا يہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ملے جلے عمل کئے يعنی اچھے عمل بھی کئے اور برے بھی تو اللہ عزوجل نے ان سے درگزر فرمايا۔''
(صحیح البخاری ،کتاب التعبیر، باب تعبیر الرؤیابعد صلاۃ الصبح، الحدیث ۷۰۴۷، ص ۵۸۸)
(17)۔۔۔۔۔۔ايک اورروايت ميں ہے :پھر شاہ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک ايسی قوم کے پاس پہنچے جن کے سروں کو پتھروں سے کچلا جا رہا تھا جب بھی انہيں کچلا جاتا وہ پہلے کی طرح درست ہو جاتے اور اس معاملے ميں کوئی سستی نہ برتی جاتی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا:'' اے جبرائيل! يہ کون ہيں ؟''عرض کی :''يہ وہ لوگ ہيں جن کے سر نماز سے بوجھل ہو جاتے ہيں۔''
( مجمع الزوائد ،کتاب الایمان ،باب منہ فی الاسر ی ، الحدیث ۲۳۵ ، ج ۱،ص ۲۳۶)
(18)۔۔۔۔۔۔رسول انور، صاحب کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''اسلام نے نماز کی تعليم دی تو جس کا دل نماز کے لئے فارغ ہوا اور اس نے اس کے حقوق، وقت اور سنتوں کی رعايت کے ساتھ پابندی کی تو وہی(کامل) مؤمن ہے۔''
( کنز العمال ،کتاب الصلاۃ ، الفصل الاول ، الحدیث ۱۸۸۶۶، ج۷ ، ص ۱۱۳ )
(19)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ''ميں نے تمہاری اُمت پر پانچ نمازيں فرض کیں اور خود سے عہد کيا کہ جس نے انہیں ان کے اوقات ميں اد اکيا ميں اسے جنت ميں داخل کروں گا اور جس نے ان کی حفاظت نہ کی اس کاميرے پاس کوئی عہد نہيں۔''
( سنن ابن ماجہ ،ابو اب اقامۃ الصلوات ، باب ماجاء فی فر ض الصلوات الخمس۔۔۔۔۔۔الخ الحدیث:۱۴۰۳،ص۲۵۶۱)
(20)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے :''جس نے جان ليا کہ نماز لازمی حق ہے اور پھر اسے ادا بھی کيا تو وہ جنت ميں داخل ہو گا۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عثمان بن عفان،الحدیث ۴۲۳،ج۱، ص۱۳۲ )
(21)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قيامت کے دن بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے ميں حساب ليا جائے گا اگروہ صحيح ہوئی تو وہ کامياب ہو گيا اور نجات پاگيااور اگروہ صحيح نہ ہوئی تو وہ خائب و خاسر ہو گيا اگر اس کے فرائض ميں کمی ہوئی تورب عزوجل ملائکہ سے ارشاد فرمائے گا :'' ديکھو کيا ميرے بندے کے پاس کوئی نفل پاتے ہو جس کے ذريعے تم اس کے فرض کی کمی کو پورا کر سکو۔'' پھر تمام اعمال کا اسی طرح حساب ہو گا۔''
( جامع الترمذی ، ابواب الصلاۃ ۔۔۔۔۔۔الخ،باب ماجاء ان اول مایحاسب ،۔۔۔۔۔۔الخ الحدیث:۴۱۳،ص۱۶۸۳)
(22)۔۔۔۔۔۔اللہ کے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس کاحساب ہو گا وہ نماز ہے اور سب سے پہلے لوگوں کے درمیان جس کا فیصلہ ہو گا وہ خون