Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
43 - 857
ابن رفعۃ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے قاضی حسین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اور انہوں نے علامہ حلیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے نقل کیا اور عنقریب ان کی عبارت کی تفصیل اپنی جگہ آ ئے گی اور ان کا مختار مذہب بھی یہی ہے کہ ہر گناہ میں صغیرہ او رکبیرہ دونوں پہلو ہوتے ہیں۔ 

    کبھی کسی قرینہ کی وجہ سے صغیرہ گناہ کبیرہ ہو جاتاہے اور کبیرہ گناہ کسی قرینہ کی وجہ سے زیادہ فحش ہوجاتا ہے، مگر اللہ عزوجل کے ساتھ کفر کرنا تمام کبائر سے زیادہ بُرا ہے اور اس کی انواع میں سے کوئی گناہِ صغیرہ نہیں۔ اس کی چند مثالیں تفصیل کے ساتھ اپنے مقام پر آئيں گی۔
ساتویں تعریف:
    ''ہر وہ فعل جس کی حرمت پر قرآن پاک میں نص وارد ہو یعنی قرآن پاک میں اس کے بارے میں تحریم (یعنی حرام کرنے)کا لفظ استعمال کیا گیاہو۔'' قرآن کریم میں جن چیزوں کی حرمت الفاظ میں مذکور ہے وہ چار ہیں: مردار اور خنزیر کا گوشت کھانا، یتیم وغیرہ کا مال کھانا اور میدان جہاد سے بھاگنا۔ لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ کبیرہ گناہ یہی چار چیزیں ہيں۔
آٹھویں تعریف:
    ''کبیرہ گناہ کی کوئی خا ص تعریف نہیں جس کے ذریعے بندہ اس کی معرفت حاصل کر سکے۔'' ہمارے شافعی علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے علامہ واحدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب ''بسیط'' میں اسی قول پر اعتماد کیا ہے، چنانچہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''صحیح بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کی کوئی ایسی تعریف نہیں جس    ذریعے بندے اس کی معرفت حاصل کر سکیں ورنہ تو لوگ صغیرہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتے بلکہ انہیں جائزو مباح سمجھنے لگتے مگر اللہ عزوجل نے کبیرہ گناہوں کو بندوں سے پوشیدہ رکھا تا کہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچنے کے لئے ہر ممنوع فعل سے بچنے کی کوشش کریں اور اس کی بہت سی مثالیں ہیں جیسے اَلصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی،(یعنی بیچ کی نماز) لَیْلَۃُالْقَدْر اور دعا کی قبولیت کی گھڑی وغیرہ کو پوشیدہ رکھا گیا۔'' 

    مگران کی یہ بات درست نہیں، بلکہ صحیح یہ ہے کہ اس کی ایک معین تعریف ممکن ہے جیسا کہ گذشتہ سطور میں بیان کیا جاچکاہے۔ پھر میں نے بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو علامہ واحدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی یہی بات نقل کرتے ہوئے دیکھا مگر انہوں نے بھی اس بات کو اس طور پر بیان کیا جس سے ان پر ہونے والے اعتراضات کچھ کم ہو گئے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ شافعی مفسر علامہ واحدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''تمام کبیرہ گناہ پہچانے نہیں جاسکتے یعنی انہیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔'' علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ گناہوں کے بارے میں تو بتا دیا گیا کہ یہ کبیرہ ہیں اور کچھ کے بارے میں بتا دیا گیا کہ یہ صغیرہ ہیں لیکن کچھ گناہ ایسے ہیں جن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ جبکہ اکثر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:''کبیرہ
Flag Counter