Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
42 - 857
علامہ ابن عطیہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''ہر وہ گناہ جس پر حد واجب ہو یا جس کے ارتکاب پر جہنم کی وعید یالعنت آئی ہو وہ کبیرہ ہے۔'' اور امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی بیان کردہ تعریف پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ''اگر کوئی شخص چوری کے نصاب سے کم مالیت کا مال غصب کرلے تو وہ گناہ صغیرہ کا مرتکب ہے حالانکہ اس کو لوگ اچھا خیال نہیں کرتے، لہٰذا قیاس کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ گناہِ کبیرہ ہونا چاہے اور اسی طرح اجنبی عورت کو بوسہ دینا صغیرہ گناہ ہے حالانکہ ایسا کرنے والے کو لوگ اچھا خیال نہیں کرتے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں گناہوں کا صغیرہ ہونا ان علماء کرام کی رائے کے مطابق ہے جو ان تمام تعریفات کو جمع کرنے والے ہیں، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا جبکہ سیدناامام رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تعریف کے مطابق یہ دونوں کبیرہ ہیں لہٰذا اعتراض ہی نہ رہا، نیز یہ اعتراض تو اس وقت درست ہوتا جب علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اس بات پر اتفاق ہوتا کہ یہ صغیرہ گناہ ہيں حالانکہ یہ ایسے افعال ہيں جن کے کرنے والے کو لوگ اچھا خیال نہیں کرتے۔
پانچویں تعریف:
    ''ہر وہ فعل جو حد واجب کرے یا اس کے ارتکاب پر وعید آئی ہے وہ کبیرہ ہے جب کہ جس فعل میں گناہ کم ہو وہ صغیرہ ہے۔''اس تعریف کو علامہ ماوردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ''الحاوی'' میں ذکر کیا ہے۔
چھٹی تعریف:
   	    ''ہروہ گناہ جو بذات خود حرام اور فی نفسہٖ ممنوع ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔'' اگر کوئی شخص ایسے فعل کا ارتکاب ان دونوں قیودات یا حرمت کی دیگر وجوہات کو پیشِ نظر رکھ کر کرے تو یہ زیادہ بُرا ہے جیسے زنا ایک کبیرہ گناہ ہے اور پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا اورزیادہ سخت بُراہے۔اس وقت تک صغیرہ گناہ صغیرہ ہی رہے گا جب تک کہ اس کا مرتبہ منصوص علیہ(یعنی جس کے کبیرہ ہونے کاواضح حکم ہو) سے کم ہو یا وہ منصوص علیہ سے کم درجہ کی کسی اور علَّت کے مقابل ہو اور اگر اس میں دو یا دو سے زیادہ حرمت کی وجوہات پائی جائیں تو وہ صغیرہ، کبیرہ ہوجائے گا ،لہٰذا بوسہ دینا ، چھونا اور رانوں پر ران رکھنا صغیرہ گناہ ہيں لیکن پڑوسی کی بیوی کے ساتھ یہ کام کبیرہ گناہ ہیں۔۱؎ جیسا کہ علامہ
۱؎ :اجنبی عورت کے چہرہ اور ہتھيلی کو اگرچہ ديکھنا جائز ہے مگرچھونا جائز نہيں اس لئے کہ شہوت کا مکمل انديشہ ہے کيونکہ نظر کے جواز کی وجہ ضرورت (اور بلوائے عام) ہے۔ چھونے کی ضرورت نہيں لہٰذا چھوناحرام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سے مصافحہ جائز نہيں اس لئے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بوقت  بيعت بھی عورتوں سے مصافحہ نہ فرماتے صرف زبان سے بيعت ليتے ،ہاں اگر وہ بہت بوڑھی ہو ں کہ محل شہوت نہ ہو تو اس سے مصافحہ کرنے ميں کوئی حرج نہيں اگر مرد زيادہ بوڑھا ہو کہ فتنے کا انديشہ ہی نہ ہو تو مصافحہ کر سکتا ہے ۔          (بہارِ شريعت، ج ۲،حصہ ۱۶،ص۷۸)
Flag Counter