بہک جانے کے سبب ہو تو صغیرہ ہو گا۔ یہاں دیانۃً سے مراد یہ ہے کہ وہ اصلاً اس فعل کو حقیر نہ جانتا ہو کیونکہ اُمورِ دینیہ میں سے کسی چھوٹے سے فعل کو بھی حقیرسمجھنا کفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعریف میں جو الفاظ استعمال کئے وہ لا پرواہی وبے توجہی کے ہیں ،یہ نہیں کہا کہ قطعاً ان کی پرواہ ہی نہ کی جائے۔کفر اگرچہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے لیکن یہاں مراد اس کے علاوہ وہ افعال ہیں جو کہ ایک مسلمان سے سر زد ہوتے ہیں۔
علامہ برماوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''متأخرین علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم نے امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے قول کو ترجیح دی شاید اس وجہ سے کہ احادیث میں جو کبیرہ گناہوں کی تفصیل مروی ہے اور قیاس کے مطابق جو گناہ کبیرہ ہیں ان سب کو امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا قول کفایت کرتا ہے۔''گویا ایسے محسوس ہورہا ہے کہ علامہ برماوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ان اعتراضات کو نہیں دیکھا جو انہوں نے سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے اس قول کے بارے میں کئے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ جب حضرت سیدنا امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے کلام میں غورو فکر کریں تو یہ بات معلوم ہو گی کہ ان کے نزدیک اس تعریف میں کبیرہ پر کوئی حد نہیں ان لوگوں کے برعکس جنہوں نے اس تعریف سے یہ سمجھا ہے کہ یہاں بھی حد ہے، کیونکہ یہ تعریف ان چھوٹی حقیر باتوں کو بھی شامل ہے جو کبیرہ گناہ نہیں، نیز اس تعریف میں ان چھوٹی حقیر باتوں کو بھی شامل کردیا گیاہے جن سے عدالت باطل ہو جاتی ہے اگرچہ وہ گناہِ صغیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔
یہ تعریف پہلی دوتعریفوں سے زیادہ عام ہے کیونکہ یہ آئندہ آنے والے تمام کبیرہ گناہوں پر صادق آتی ہے مگر یہ تعریف مانع نہیں جیسا کہ آپ جان چکے ہیں کہ یہ صغیرہ گناہوں پر بھی صادق آتی ہے مثلاً صغیرہ پر اصرار وغیرہ۔
علامہ برماوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سیدنا امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے گذشتہ توجیہات نقل کرکے ارشاد فرمایا:''بعض محققین رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان تما م تعریفات کو جمع کرلینا چاہے تا کہ قرآن وسنت اور قیاس سے معلوم شدہ کبیرہ گناہوں کو شمار کیا جاسکے کیونکہ بعض گناہوں پر ایک تعریف پوری طرح صادق نہیں آتی تو بعض پر دوسری اس لئے ان تعریفات کو جمع کرنے ہی سے ان کی صحیح تعداد معلوم ہوسکتی ہے ۔''
مَیں (مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کہتاہوں :امام صاحب کی اس تعریف میں جو بھی تھوڑا بہت غورو فکر کرے تو اس پر یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ آئندہ بیان کئے جانے والے ہرگناہ پریہ تعریف پوری اُترتی ہے۔'' اور ''الخادم'' میں سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے قول کونقل کرنے کے بعد صاحبِ کتاب لکھتے ہیں:''تحقیق یہ ہے کہ ان وجوہات میں سے ہر ایک کبیرہ گناہوں کی بعض اقسام پر ہی منحصر ہے، جبکہ ان سب کے مجموعے سے کبیرہ گناہوں کی معرفت کا قاعدہ کلیہ حاصل ہوجاتاہے۔''
اسی لئے علامہ ماوردی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''کبیرہ گناہ وہ ہے جو حد کو واجب کرے یا جس پر وعید آئی ہو۔'' اور