Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
412 - 857
    پس معلوم ہواکہ يہ احاديثِ مبارکہ پيشاب سے نہ بچنے کے کبيرہ گناہ ہونے ميں صريح ہيں،سیدنا امام بخاری عليہ رحمۃ اللہ
الباری نے گذشتہ احاديث کا عنوان اس طرح قائم کيا:
بَابُ مِنَ الْکَبَآئِرِ اَنْ لاَّ يَسْتَنْزِہَ مِنَ الْبَوْلِ
يہ باب اس بيان ميں ہے کہ پيشاب (کے چھینٹوں)سے نہ بچنا کبيرہ گناہوں ميں سے ہے۔

    سیدنا خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمانِ عالیشان :''انہيں کسی بڑی چيز کے سبب عذاب نہيں ہو رہا۔'' کا مطلب يہ ہے کہ انہيں کسی ايسے عمل پر عذاب نہيں ہو رہا جو ان پر بڑا تھا يا اگر وہ اسے کرتے تو يہ انہيں مشقت ميں ڈال ديتا اوروہ کام پيشاب سے بچنا اور چغل خوری ترک کرنا ہے، يہ مراد نہيں کہ ان دونوں کا گناہ دين کے معاملے ميں بڑا نہيں اور ان کا گناہ کم اور آسان ہے۔''

    حافظ منذری عليہ رحمۃاللہ الولی اس کی وضاحت میں فرماتے ہيں :''اسی(مذکورہ ) وہم کوزائل کرنے کے لئے حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:''بے شک يہ بڑا گناہ ہے۔'' ان احاديثِ مبارکہ ميں ہمارے اصحاب کے اس قول پر واضح دليل موجود ہے : ''چلتے چلتے يا عضوِ تناسل کو کھينچ کر يا کھنکار کر استبراء کرنا واجب ہے۔'' کيونکہ ہر انسان کے لئے استبراء کے طريقے ميں ايک عادت ہوتی ہے جس کے بغير پيشاب کے بچے ہوئے قطرے خارج نہيں ہوتے، لہٰذا ہر انسان کو اپنی عادت کے مطابق استبراء کرنا چاہے، مگر اس معاملہ ميں جڑ سے ابتداء نہيں کرنی چاہے کيونکہ يہ عمل وسوسے پيدا کرتا ہے، اور اگر عضوِ تناسل کوسختی سے دبایاجائے تویہ نقصان دہ ہے۔ 

    اسی طرح ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ پاخانہ کرتے وقت شرمگاہ کو دھونے ميں مبالغہ سے کام لے اور تھوڑا ڈِھيلا کرے تاکہ شرمگاہ کے حلقے کے پردے ميں رہ جانے والی نجاست دُھل جائے کيونکہ اعضاء کو ڈھيلا نہ چھوڑنے اور اس جگہ کو دھونے ميں مبالغہ سے کام نہ لينے والے اکثر لوگ نجاست ہی کے ساتھ نماز پڑھ ليتے ہيں اور مذکورہ احاديثِ مبارکہ ميں وارد اس سخت وعيد کا شکار ہو جاتے ہيں کيونکہ اس حدیث پاک کاحکم پیشاپ (کی نجاست)سے بڑھ کر پاخانہ(کی نجاست) کے لئے ہے کيونکہ اس ميں زيادہ گندگی ہے اوریہ زیادہ بُراہے۔

    منقول ہے کہ حضرت ابن ابی زيد مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے انتقال کے بعدانہیں کسی نے خواب ميں ديکھا تو پوچھا : ''مَافَعَلَ اللہُ بِکَ يعنی  اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کيا معاملہ فرمايا؟'' تو آپ نے جواب دیا :''مجھے بخش ديا گیا۔'' پوچھا گیا کہ ''کس وجہ سے؟'' تو انہوں نے جواب ديا :''ميرے اس قول کی وجہ سے جو ميں نے استنجاء سے متعلق اپنے رسالے ميں لکھا تھا کہ قضائے حاجت کرنے والے کو چاہے کہ وہ اپنی شرمگاہ کو ڈھيلا چھوڑے۔'' 

    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ يہ بات فرمانے والے پہلے شخص تھے کيونکہ يہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسان جب اپنی مقعد کو
Flag Counter