| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
کی :''وہ کون سا گناہ ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ان میں سے ایک پیشاب سے نہ بچتا تھا اور دوسرا اپنی زبان سے لوگوں کو اذیت دیتا تھااور چغلی کرتا تھا۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کھجور کی دو ٹہنیاں منگوائیں اور ان میں سے ہر ایک قبر پر ایک ایک ٹہنی رکھ دی تو ہم نے عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا یہ چیز ان کو کوئی نفع دے گی؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ہاں ! جب تک یہ دونوں ٹہنیاں تر رہیں گی ان سے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔''
(صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب الأذکار، الحدیث: ۸۲۱،ج۲،ص۹۶،''لایستنزہ''بدلہ''لایستتر'')
(10)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے :''چار شخص جہنميوں کو ان کے عذاب ميں مبتلا ہونے کے باوجود مزيد ايذاء ديں گے، وہ حَمِيم (کھولتے پانی)اور جَحِيم (آگ)میں دوڑتے ہوں گے اور اپنی ہلاکت اور تباہی کی دعا کريں گے، جہنمی ایک دوسرے سے کہيں گے :''انہيں کيا ہوا کہ يہ ہميں مزید ايذاء دے رہے ہيں حالانکہ ہم پہلے ہی تکليف ميں مبتلا ہيں؟'' ان ميں سے ايک شخص پرآگ کا صندوق لٹک ر ہاہو گا، دوسرا اپنی انتڑياں کھينچ رہا ہو گا، تيسرے کے منہ سے پيپ اور خون بہہ رہا ہو گا اور چوتھا اپنا ہی گوشت کھا رہا ہو گا، صندوق والے سے کہا جائے گا :'' رحمتِ الٰہی عزوجل سے دوراس شخص کا کيا معاملہ ہے جو ہميں عذاب ميں مبتلا ہونے کے باوجود مزيد تکليف دے رہا ہے؟'' تو وہ کہے گا :''اللہ عزوجل کی رحمت سے دور يہ شخص جب مرا تو اس کی گردن پر لوگوں کے ان اموال کا بوجھ تھا جنہیں وہ ادا يا پورا نہ کر سکا۔'' پھر اپنی انتڑياں کھينچنے والے سے کہا جائے گا:''رحمت سے دور اس بندے کا کيا معاملہ ہے جو ہميں عذاب ميں مبتلا ہونے کے باوجود مزيد تکليف پہنچارہا ہے؟'' تو وہ کہے گا کہ ''رحمت سے دور يہ بندہ اس بات کی پرواہ نہيں کرتا تھا کہ اسے(کپڑوں یاجسم پر) کہاں پيشاب لگا اوریہ اسے نہیں دھوتا تھا۔'' (بقیہ مکمل حدیثِ پاک غیبت کے باب میں بیان ہوگی)
(المعجم الکبیر، الحدیث: ۷۲۲۶،ج۷،ص۳۱۱)
(11)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے دریافت فرمایا :''کيا تم نہيں جانتے کہ بنی اسرائيل کو کيا مصيبت پہنچی؟ ان (کے کپڑوں) کو جب کہيں پيشاب لگتا تو وہ اس جگہ کو قينچيوں سے کاٹ ديا کرتے تھے، پھر ان کے ايک ساتھی نے انہيں ايسا کرنے سے منع کيا تو وہ قبر کے عذاب ميں مبتلا ہو گيا۔''
(المسندللامام احمدبن حنبل ،الحدیث:۱۷۷۷۳،ج۶،ص۲۲۷)
تنبیہ: