| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
ہيں: ''ميں اور ميرا رفیق ٹہنی لینے چلے گئے، پھر ميں نے ايک ٹہنی لا کر پيش کی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے دو ٹکڑے کر کے ايک ايک ٹکڑا دونوں قبروں پر رکھ ديا اور ارشاد فرمايا :''امید ہے کہ جب تک يہ تر رہيں گی ان کے عذاب ميں کمی کی جائے گی۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۳۷۴۷،ج۳،ص۲۱)
(8)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ نبئ کریم ، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک مرتبہ سخت گرم دن ميں بقيع غرقدکی طرف تشريف لے گئے، صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پيچھے پيچھے چل دئيے جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جوتوں کی آواز سنی تو ٹھہر کر بيٹھ گئے يہاں تک کہ انہيں آگے جانے ديا پھر جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بقيع غرقَد پہنچ کر دو نئی قبروں کے پاس سے گزرے تو دریافت فرمایا :''آج تم نے يہاں کس کو دفن کيا ہے؟'' صحابہ کرام عليہم الرضوان نے عرض کی: ''فلاں، فلاں کو۔''پھر عرض کی : ''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! معاملہ کيا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمايا :''ان ميں سے ايک پيشاب سے نہ بچتا تھا جبکہ دوسرا چغلخوری کرتا تھا۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ايک تر ٹہنی پکڑ کر اس کے دو ٹکڑے کئے اور قبر پر رکھ دئيے، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ايسا کيوں کيا؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :''تا کہ ان کے عذاب ميں تخفيف ہو جائے۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''انہيں کب تک عذاب ہوتارہے گا؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :''يہ غيب کی بات ہے جسے اللہ عزوجل ہی جانتا ہے اور اگر تمہارے دل منتشر نہ ہوتے اور گفتگو ميں زيادتی نہ کرتے تو تم بھی وہ سنتے جو ميں سنتا ہوں۔''
(المسندللامام احمد،حدیث ابی امامۃ الباہلی الحدیث:۲۲۳۵۵،ج۸،ص۳۰۴،''تمزع'' بدلہ ''تمترع'')
(9)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہمارا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ٹھہر گئے لہذا ہم بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ ٹھہر گئے، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا رنگ مبارک متغیر ہونے لگا یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قمیص مبارک کی آستین کپکپانے لگی، تو ہم نے عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا ماجرا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''کیا تم بھی وہ آواز سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟'' تو ہم نے عرض کی :'' یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کیا سماعت فرما رہے ہیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ''ان دونوں افراد پر ان کی قبروں میں انتہائی سخت عذاب ہو رہا ہے وہ بھی ایسے گناہ کی وجہ سے جو حقیر ہے۔'' (یعنی ان دونوں کےخیال میں حقیر تھا یا پھر یہ کہ اس سے بچنا ان کے لئے آسان تھا) ہم نے عرض