| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(1)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ان ميں عذاب ہو رہا ہے اور يہ عذاب کسی بڑی چيز کے سبب نہيں ہو رہا مگر يہ بڑا گناہ ضرور ہے ان ميں سے ايک چغلخوری کرتا تھا اوردوسرا پيشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا۔''
(صحیح مسلم،کتاب الطہارۃ ، باب الدلیل علی نجاسۃ البول۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۷۷،ص۷۲۷)
(2)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک ديوار کے قريب سے گزرے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دو آدميوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں ميں عذاب ہو رہا تھا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:''ان دونوں پر عذاب ہو رہا ہے اور يہ عذاب کسی بڑے سبب سے نہيں ہو رہا۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :''ان ميں سے ايک پيشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا چغلخوری کرتا تھا۔''
(صحیح ابن حزیمہ، کتاب الوضوء، باب التحفظ من البول کَی لایصیب ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۵۵،ج۱،ص۳۲)
(3)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا :''عذابِ قبر عموماً پيشاب (کے چھینٹوں سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۱۱۱۲۰،ج۱۱،ص۷۰)
(4)۔۔۔۔۔۔ایک روایت کے الفاظ ہیں :''قبر کا عذاب پیشاب (کے چھینٹوں سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا اس سے بچو۔'' (5)۔۔۔۔۔۔ایک اورروایت میں ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''اکثرعذابِ قبر پيشاب (کے چھینٹوں سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔''
(سنن ابن ماجۃ،ابواب الطہارۃ،باب التشدیدفی البول،الحدیث:۳۴۸،ص۲۴۹۸)
(6)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''پيشاب (کے چھینٹوں) سے بچتے رہو کيونکہ قبر ميں بندے سے سب سے پہلے پيشاب کے بارے ميں سوال کيا جائے گا۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۷۶۰۵،ج۸،ص۱۳۳)
(7)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ ايک مرتبہ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ميرے اور ايک دوسرے شخص کے درميان تشریف لے جا رہے تھے، اسی اثناء ميں دو قبروں پر پہنچے تو ارشاد فرمايا :''ان دونوں پر عذاب ہو رہا ہے، لہٰذا تم دونوں مجھے ايک ٹہنی لا کر دو۔'' حضرت سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے