Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
40 - 857
جانب مائل ہيں۔'' جبکہ میں نے حضرت سیدنا امام اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو یہ فرماتے ہوئے دیکھا کہ دونوں حضرات کا یہ قول بڑا عجیب ہے کہ''علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم دوسری تعریف کی جانب مائل ہيں جو کہ مقصودسے دور ہے۔'' حالانکہ جب انہوں نے پہلی تعریف کو یہ کہتے ہوئے ترجیح دی کہ ہمارے نزدیک وہ  گناہ کبیرہ ہے جس پرنص قائم ہو اگرچہ اس پر حد کانافذ ہونا ضروری نہیں تو اس پر کیا جانے والا یہ اعتراض خود بخود ختم ہوجاتا تھا کہ بخاری و مسلم میں والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی کو کبیرہ شمار کیا گیاہے اس کے باوجود ان پر کوئی حد نہیں۔ تو جس طرح اس دوسری تعریف پرانہوں نے یہ مثالیں دے کر اعتراض کیا اسی طرح اس پہلی تعریف پر بھی یہ اعتراض پیدا ہوتاہے کہ بعض گناہ ایسے بھی ہیں کہ ان کا کبیرہ ہونا تو معلوم ہے لیکن ان پر کوئی نص وارد نہیں ،جیسا کہ علامہ ابن عبد السلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کئی ایسے کبیرہ  گناہوں کا تذکرہ کیا ہے جن پر بالاتفاق کوئی بھی نص وارد نہیں۔
تیسری تعریف:
    ہروہ گناہ جس کی حرمت پر کوئی نص وارد ہو یا اس کی جنس میں سے کسی فعل پر حد واجب ہوتی ہو اور اس کے ارتکاب سے فوری طور پرلازم ہونے والے فرض کو چھوڑنا پڑتا ہو اور گواہی ، روایت اور قسم میں جھوٹ بولناپڑے تویہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔

    علامہ ہروی علیہ رحمۃاللہ القوی نے اپنی کتاب ''الاشراف'' اور قاضی شریح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب ''الروضۃ'' میں یہ اضافہ کیا ہے کہ''اِجماع عام(یعنی سلف سے منقول ہر دور میں قائم رہنے والا اجماع ) کامخالف ہر قول بھی  گناہِ کبیرہ ہے۔''
چوتھی تعریف:
    سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک اُمورِ دینیہ کی انجام دہی میں لاپرواہی و بے توجہی سے کام لینا کبیرہ  گناہ ہے، کیونکہ دینی اُمور کی بجاآوری میں حد سے زیادہ نرمی اختیار کرنا عدالت(یعنی گواہ بننے کی صلاحیت) کو باطل کردیتاہے اورلا پرواہی و بے توجہی اُمور دینیہ کی ادائیگی اس بات کو ثابت نہیں کرتی بلکہ اس کے مرتکب سے ظاہری طورپر حُسنِ ظن باقی رہتا ہے اور اس کی عدالت کو باطل نہیں کرتا۔

    سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:''دو متضادچیزوں میں فرق کرنے کے لئے یہ سب سے بہتر تعریف ہے۔'' یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن قشیری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ''المرشد'' میں اسے ذکر کیا اور سیدنا امام سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ نے اس تعریف کو پسند کیا ہے۔

    اس سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک انسان کسی فعل کو ہیچ اور حقیر جانتے ہوئے سر انجام دے لیکن اس کا یہ ہیچ سمجھنا دیانۃً نہ ہو بلکہ حد درجہ تقوی اور اُمید ِمغفرت کی وجہ سے ہو تو گناہِ کبیرہ ہو گا اور اگر وہ فعل محض دل میں پیدا ہونے والے وسوسے یا پھر آنکھ کے
Flag Counter