Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
408 - 857
نے ارشاد فرمايا: ''وہ يہ ہيں کہ آدمی لوگوں کی گزرگاہوں اور سایہ دار جگہ ميں پاخانہ کرے۔''
(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب النھی عن التخلی فی الطرق۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۱۸،ص۷۲۴)
وضاحت:
    امام خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ''سائے سے مراد مطلق سايہ دار جگہ نہيں بلکہ وہ سایہ ہے جسے لوگ آرام کرنے يا پڑاؤ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہيں کيونکہ سرکار مدينہ راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کھجور کے درخت کے نيچے قضائے حاجت فرمائی اور لامحالہ وہ سايہ دار درخت تھا۔''

(7)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''راستوں ميں لوگوں کے پڑاؤ کرنے اور نماز پڑھنے کی جگہوں سے بچتے رہو کيونکہ يہ کيڑے مکوڑوں اور درندوں کے ٹھکانے ہيں اوران پر قضائے حاجت کرنے والوں پر يہ جانور لعنت بھيجتے ہيں۔''
(سنن ابن ماجہ،ابواب الطہارۃ وسننھا،باب النھی عن الخلاء۔۔۔۔۔۔ الخ،الحدیث: ۳۲۹،ص۲۴۹۷)
تنبیہ:
    پہلی اور دوسری حدیثِ پاک کے تقاضا کی بناء پر اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے کيونکہ لعنت کبيرہ گناہوں کی علامتوں ميں سے ہے، ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے مابین اس بات ميں اختلاف ہے کہ يہ عمل صغيرہ گناہ ہے يا مکروہ ؟صحیح ترین قول يہ ہے کہ ايسا کرنا مکروہ ہے مگر يہ احاديثِ مبارکہ اس کی حرمت کو راجح قرار ديتی ہيں، بخاری و مسلم نے باب الشھادۃ ميں ان سے روايتيں نقل کیں اور انہيں برقرار رکھا اور بعض متاخرين نے اس پر اعتماد کيا ہے۔ الخادم ميں ہے کہ صاحب العدۃ کے نزديک اس اعتبارسے حرمت مراد ہے کہ ناحق راستے کو استعمال کرنے کی وجہ سے اس ميں مسلمانوں کی ايذاء پائی جا رہی ہے جبکہ يہ عمل قضائے حاجت کے آداب ميں سے ہونے کے اعتبار سے حرمت پر ختم نہيں ہوتا، لہٰذا ان کے اس قول ميں دو احتمال ہوئے اور يہ اسی صورت ميں ہے کہ جب صاحب العدۃ کے قول سے وہی مراد ہو جو امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سمجھے ہيں حالانکہ ظاہر اس کيخلاف ہے کيونکہ ان کی مراد يہ ہے کہ یہ ان کاموں ميں سے ہے جن کے سبب گواہی مردود ہو جاتی ہے اس وجہ سے کہ يہ عمل محض مروّت کيخلاف ہے نہ کہ اس کے حرام ہونے کی وجہ سے۔
Flag Counter