Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
406 - 857
(32)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ِ قرآن پڑھنے والے تين طرح کے لوگ ہيں: (۱)وہ جس نے اسے اُجرت کا ذريعہ بنايا (۲)وہ جو منبر پر بيٹھ کر شيخی بگھارتا ہے يہاں تک کہ يہ بات اسے مزامير سے زيادہ پسند ہوتی ہے پس وہ کہتا ہے :''خدا کی قسم! نہ تو ميں کلام ميں غلطی کرتا ہوں اور نہ ہی ميرا کوئی حرف عيب والا ہے پس يہ ميری اُمت کا شرير ترين گروہ ہے اور (۳)وہ جس کے پيٹ (کے تقاضے) نے اسے لباس پہنایا اور دل (کی حرص)نے کھانا کھلایا لہٰذا اس نے اپنے دل کو ایک ایسا محراب بنا ليا کہ جس سے لوگ تو عافيت ميں ہيں لیکن وہ خود مصيبت ميں گرفتار ہے، ايسے لوگ (مرتبہ کے لحاظ سے) ميری اُمت ميں سرخ گندھک سے بھی کم ہيں۔''
   (المرجع السابق ،الحدیث:۲۸۷۷)
(33)۔۔۔۔۔۔خاتَم ُالْمُرْسَلِین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قرآن کو پڑھنے والے تين قسم کے ہوتے ہيں: (۱)وہ جس نے قرآن پاک پڑھاپھر اس کو سامانِ تجارت بنا ليا اور اس کے ذريعے لوگوں کو اپنی طرف مائل کيا (۲)وہ جس نے قرآن کو پڑھا اور اس کے حروف کوصحيح ادا کيا ليکن اس کے احکام پر عمل نہ کيا، اکثر قرآن پڑھنے والے ايسے ہی ہيں، اللہ عزوجل ان کو زيادہ نہ کرے (اٰمين)اور (۲)وہ جس نے قرآن پڑھا پس قرآن کی دوا کو دل کی بيماری پر لگا ليا، قرآن کے ذريعے اپنی راتوں کو بيدار کيا اور اس کے ذريعے اپنے دن کو پياسا کيا، انہوں نے اپنی سجدہ گاہوں ميں قیام کیااور اس کی عزت کی، تو يہی وہ لوگ ہيں اللہ عزوجل جن کی برکت سے بلائیں ٹالتا ہے، دشمنوں سے بچاتا ہے اور آسمان کی بارش نازل فرماتا ہے، خدا کی قسم! ايسے قُرَّآء سرخ گندھک سے بھی زيادہ عزت والے(يعنی قيمتی ) ہيں۔''
(شعب الایمان، باب فی تعظیم القرآن،فصل فی ترک المباھاۃ بقراء ۃ ، الحدیث:۲۶۲۱،ج۲،ص۵۳۱)
Flag Counter