Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
405 - 857
    علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ايک جماعت نے ان احاديثِ مبارکہ کے ظاہر کو ليا اور تعليم قرآن پر اُجرت کو حرام قرار ديا جبکہ اکثرعلماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمانِ مبارک کی وجہ سے اُجرت لینے کو جائز قرار ديا ہے کہ،

(30)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک جن چيزوں پر بدلہ ليا جاتا ہے ان ميں سب زيادہ حقدار اللہ عزوجل کی کتاب ہے۔''۱؎
(السنن الکبریٰ للبیہقی،کتاب الاجارۃ ، باب اخذالاجرۃ علی تعلیم القرآن ، الحدیث: ۱۱۶۷۶،ج۶،ص۲۰۵)
(31)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عمير بن ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے قرآنِ کریم سن کر وہ اثر پاتے ہيں جو خلوت ميں خود پڑھنے سے نہيں پاتے۔'' تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :''بالکل ٹھيک ہے، ميں باطنی طور پر پڑھتا ہوں جبکہ تم ظاہری طور پر پڑھتے ہو۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! باطن کيا ہے اور ظاہرکيا ہے؟'' تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :''ميں پڑھتا ہوں اور غور وفکر کرتا ہوں اور جو کچھ اس ميں ہے اس پر عمل کرتا ہوں جبکہ تم اس طرح پڑھتے ہو (یہ فرماکر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے)اپنے ہاتھ سے اشارہ کيا جیسے ہاتھ سے رسی کو بَل(یعنی مروڑ) دیا ہو۔''
(کنز العمال،کتاب الاذکار،فرع فی محظورات التلاوۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۸۷۶،ج۱،ص۳۰۹،بتقدمٍ وتاخرٍ)
ؔ ۱ؔ؎:حضرت صدرالشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:''طاعت وعبادت کے کاموں پر اجارہ کرنا جائز نہیں مثلااذان کہنے کے لیے،امامت کے لیے،قرآن وفقہ کی تعلیم کے لیے،حج کے لئے یعنی اس لئے اجیرکیاکہ کسی کی طرف سے حج کرے، متقدمین فقہاء کایہی مسلک تھامگرمتأ خرین نے دیکھاکہ دین کے کاموں میں سستی پیداہوگئی ہے اگراس اجارہ کی سب صورتوں کوناجائزکہاجائے تودین کے بہت سے کاموں میں خلل واقع ہوگا۔ انہوں نے اس کلیہ سے بعض امورکااستثناء فرمادیااوریہ فتویٰ دیاکہ تعلیم القرآن وفقہ اوراذان وامامت پراجارہ جائزہے کیونکہ ایسانہ کیاجائے توقرآن وفقہ کے پڑھانے والے طلب معیشت میں مشغول ہوکراس کام کوچھوڑدیں گے اورلوگ دین کی باتوں سے ناواقف ہوتے جائیں گے ۔اسی طرح اگرموذن وامام کو نوکر نہ رکھاجائے توبہت سی مساجدمیں اذان وجماعت کاسلسلہ بندہوجائے گااوراس شعاراسلامی میں زبردست کمی واقع ہوجائے گی اسی طرح بعض علماء نے واعظ پر اجارہ کوبھی جائزکہاہے اس زمانے میں اکثرمقامات ایسے ہیں جہاں اہل علم نہیں ہیں ادھرادھرسے کبھی کوئی عالم پہنچ جاتاہے جووعظ وتقریرکے ذریعہ انہیں دین کی تعلیم دے دیتاہے اگراس اجارہ کوناجائزکردیاجائے توعوام کوجواس ذریعہ سے کچھ علم کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں اس کاانسدادہوجائے گایہاں یہ بتا دینا بھی ضروری معلوم ہوتاہے کہ جب اصل مذہب یہی ہے کہ یہ اجارہ ناجائزہے ایک دینی ضرورت کی بناپراس کے جوازکافتویٰ دیاجاتاہے توجس بندۂ خداسے ہو سکے کہ ان امورکومحض خالصاً لوجہ اللہ انجام دے اوراجراخروی کامستحق بنے تواس سے بہترکیابات ہے پھراگرلوگ اس کی خدمت کریں بلکہ یہ تصورکرتے ہوئے کہ دین کی خدمت یہ کرتے ہیں ہم ان کی خدمت کرکے ثواب حاصل کریں تودینے والامستحق ثواب ہوگااوراس کولیناجائزہوگاکہ یہ اجرت نہیں ہے بلکہ اعانت وامدادہے ۔''                         (بہارشریعت،ج۲،حصہ۱۴،ص۸۲)
Flag Counter