(23)۔۔۔۔۔۔ حضورنبئ کریم ،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''وہ قرآنِ پاک پر يقين نہيں رکھتا جواس کی حرام کردہ چيزوں کوحلال جانتاہے۔''
(جامع الترمذی،ابواب فضائل القرآن،باب من قرأ القرآن۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۱۸،ص۱۹۴۴)
(24)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے قرآنِ پاک پڑھا تا کہ اس کے ذريعے لوگوں کے مال کھائے وہ قيامت کے دن اس حال ميں آئے گا کہ اس کا چہرہ ايسی ہڈی ہو گا جس پرگوشت نہ ہو گا۔''
(شعب الایمان،باب فی تعظیم القرآن،فضل فی ترک قرأۃ القرآن۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۶۲۵،ج۲،ص۵۳۳)
(25)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''ميں نے ايک آدمی کو قرآنِ پاک پڑھايا اس نے ميری طرف ايک کمان ھديۃً بھيجی تو ميں نے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے اس کا ذکر کيا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اگر تُو نے اسے لے ليا تو تُو نے آگ کی کمان لی۔''
(سنن ابن ماجۃ، ابواب التجارات، باب الاجر علی تعلیم القرآن،الحدیث:۲۱۵۸،ص ۲۶۰۶)
(26)۔۔۔۔۔۔اسی کی مثل ایک روایت حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے اور اس میں مَخْزنِ جودو سخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں ارشاد فرمایا :''اگر تُو آگ کا طوق پہننا پسند کرتا ہے تو اس کمان کو لے لے۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الاجارۃ ، باب فی کسب المعلم، الحدیث: ۳۴۱۶،ص۱۴۷۸)
(27)۔۔۔۔۔۔ ايک اور روايت ميں ہے :''اگر تُو چاہتا ہے کہ اللہ عزوجل آگ کی کمان تیرے گلے ميں لٹکائے تو اُ سے لے لے ۔ ''
(حلیۃ الاولیاء، الحدیث: ۷۹۰۹،ج۶،ص۸۹)
(28)۔۔۔۔۔۔حضورنبی پاک صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو قرآنِ کریم کی تعليم پر کمان لے گا اللہ عزوجل آگ کی کمان اس کے گلے ميں لٹکائے گا۔''
(سنن الکبریٰ للبیہقی،کتاب الاجارۃ، باب من کرہ اخذالاجرۃ،الحدیث: ۱۱۶۵۵،ج۶،ص۲۰۸)
(29)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے قرآن پڑھانے پر بدلہ ليا پس اس نے دنیا ہی میں اپنی نيکيوں کا بدلہ لينے ميں جلدی کی اور قرآنِ پاک قيامت کے دن اس سے جھگڑے گا۔''
(حلیۃ الاولیاء، الحدیث:۴۶۳۰،ج۴،ص۲۲،''یحاججہ''بدلہ''یخاصمہ'')