ترجمۂ کنز الایمان : تو نہ ان ميں رشتے رہيں گے اور نہ ايک دوسرے کی بات پوچھے۔(پ18، المؤمنون:101)
(3) اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤی اَفْوَاہِہِمْ وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمْ وَ تَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿65﴾
(پ23،یٰسۤ:65)
ترجمۂ کنز الایمان :آج ہم ان کے مونھوں پر مہر کر ديں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کريں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی ديں گے۔
(4) یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیۡہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ اَرْجُلُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿24﴾
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن ان پر گواہی ديں گی ان کی زبانيں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے۔(پ18، النور:24)
(5) ہٰذَا یَوْمُ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿ۙ35﴾
ترجمۂ کنز الایمان :يہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکيں گے۔ (پ29،ا لمرسلات،35)
حاصل کلام يہ ہے کہ اس ميں جھگڑنا يا تو کفر ہے يا دين ميں بہت بڑا نقصان ہے لہذا اس برے عمل کاارتکاب کرنايا تو کفر ہو گا اور يا پھر کبيرہ گناہ، اس لئے جو ميں نے بیان کيا و ہ صحيح اور جو ميں نے لکھا وہ واضح ہے، اللہ عزوجل ہی توفيق دينے والا ہے، پھر ميں نے بعض کو ديکھا جنہوں نے قرآن پاک اوردین کے کسی معاملے میں جھگڑنے کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا اور یہ ميرے بیان کردہ کی تائيد ہے۔