Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
401 - 857
مؤمن جھگڑتانہیں، جھگڑنا چھوڑ دو کيونکہ جھگڑنے والے کا خسارہ مکمل ہو چکا ہے، جھگڑنا چھوڑ دو کيونکہ گناہ ہونے کے لئے کافی ہے کہ تم ہميشہ جھگڑتے رہے، جھگڑنا چھوڑدو کيونکہ ميں بروزِ قيامت جھگڑنے والے کی شفاعت نہيں کروں گا، جھگڑنا چھوڑ دو تو ميں جنت ميں تين گھروں کا ضامن ہوں گا: ايک نيچے، دوسرادرميان ميں اور تيسرا سب سے اوپر والا، جس نے جھگڑنا چھوڑ ديا وہ سچا ہے، جھگڑنا چھوڑ دو کيونکہ بتوں کی عبادت سے بچتے رہنے کے بعد مجھے میرے رب عزوجل نے جس چيز سے سب سے پہلے بچنے کاحکم فرمایا وہ جھگڑنا ہے۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۷۶۵۹،ج۸،ص۱۵۲)
ضروری وضاحت:
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مذکورہ فرمانِ عالیشان سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بتوں کی عبادت کی ہوکیونکہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اس پر اجماع ہے کہ انبياء کرام علیہم السلام کفر سے معصوم ہيں۔
تنبیہ:
    اسے کبيرہ گناہ شمار کيا گيا ہے لیکن ميں نے کسی کو نہيں ديکھا کہ جس نے اسے کبيرہ کہا ہو اور يہ احاديثِ مبارکہ اس ميں ظاہر ہيں اور آخری حدیثِ پاک اگرچہ ضعيف ہے مگر بخاری شریف کی مذکورہ حدیثِ پاک اسے قوت ديتی ہے: ''اللہ عزوجل کے نزديک ناپسندیدہ ترين شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہے۔''اور اپنی بيوی کی دُبُر(یعنی پچھلے مقام) ميں وطی کرنے کو بھی کبيرہ گناہ شمار کئے جانے کی مثال اسی طرح ہے کہ آنے والی بعض احاديثِ مبارکہ ميں اس پر بھی کفر ہونے کا حکم ہے۔ 

    لہذا اسی طرح يہاں کہا جائے گا کہ اس گناہ کو کفر کہنا اس کے کبيرہ ہونے ميں ظاہر ہے بلکہ يہ اس وطی سے بدرجہ اَوْلیٰ حقيقی کفر کے قريب ہے کيونکہ قرآن ميں جھگڑنا اگر حقيقی تناقض کے وقوع کے اعتقاد کی طرف لے جائے يا اس کی نظم ميں شبہ کی طرف لے جائے تو کفر حقیقی ہو جائے گا اگرچہ قائل کفر کے الفاظ ادا نہ کرے، لیکن اس سے اگر لوگوں کو تناقض يا خلل کا وہم ہو يا قرآنِ پاک کے بارے کلام کرنے سے ان کومحض شبہ وغيرہ ہو تو يہ اگرچہ حقيقی کفر نہيں مگر دين ميں عظيم نقصان اور ملحدين کے راستے پر چلنے کی وجہ سے اس کا گناہِ کبيرہ ہوناکچھ بعيد نہيں۔

    اورامیرالمومنین حضرت سيدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کو سزا دی تھی جس نے قرآن کریم کی بعض آیات کے بارے ميں پوچھ کر لوگوں کے دلوں ميں ادنیٰ سا شبہ داخل کرنے کا ارادہ کيا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کو مدينہ شریف (زَادَھَااللہُ شَرْفًاوَتَعْظِیْمًا)سے نکال ديا کيونکہ آپ کو اس بات کا ڈر تھا کہ ہر عيب سے پاک قرآنِ کریم کے بارے ميں لوگوں کے
Flag Counter