Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
400 - 857
ايک ايسی قوم کے پاس تشريف لائے جو قرآنِ کریم ميں جھگڑ رہی تھی، تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے لوگو! تم سے صديوں پہلے کی اُمتيں اسی وجہ سے ہلاک ہوئی تھيں، بے شک قرآنِ کریم کی بعض آيتيں ديگر بعض آيتوں کی تصديق کرتی ہيں لہٰذا بعض آيتوں کی وجہ سے ديگر بعض کو نہ جھٹلايا کرو۔''
       (المعجم الاوسط،الحدیث:۵۳۷۸،ج۴،ص۱۰۹)
 (9)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو سعيد خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشادفرماتے ہيں کہ ہم نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے درِاقدس پر بيٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ ايک شخص ايک آيت کریمہ کے ذريعے نزاع کرتا تو دوسرا شخص دوسری آيت کے ذريعے۔ اتنے ميں دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہمارے پاس تشريف لائے گويا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا چہرۂ مبارک انار کے دانوں کی طرح سرخ تھا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :''اے لوگو! کيا تمہيں اسی لئے بھيجا گيا ہے ؟کيا تمہيں اسی کا حکم ديا گيا ہے؟ ميرے بعد کافر ہو کر ايک دوسرے کی گردنيں مارنے نہ لگ جانا۔''
 (المعجم الاوسط،الحدیث:۸۴۷۰،ج۶،ص۱۹۲)
 (10)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس قوم کو ہدايت دی گئی وہ اس وقت تک ہدايت کے راستے سے نہيں بھٹکی جب تک جھگڑنے نہ لگی پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے يہ آيت مبارکہ تلاوت فرمائی:
مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:انہوں نے تم سے يہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو۔( پ25،الزخرف:58)
(صحیح البخاری، کتاب التفسیر،باب سھو ألدالخصام،الحدیث: ۴۵۲۳،ص۳۷۱،بدون''الذی یحج فی صحۃ'')
(11)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''بے شک اللہ عزوجل کو لوگوں ميں سب سے ناپسند وہ لوگ ہيں جو شديد جھگڑالو ہيں۔''

(12)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم فرماتے ہیں کہ حضرت عيسٰی(عليہ السلام) نے ارشاد فرمايا:''بے شک اُمور تين قسم کے ہيں: (۱)وہ جس کا صحيح ہونا تجھ پر ظاہر ہو گيا پس اس کی اِتباع کر (۲)وہ جس کاغلط ہونا تجھ پر ظاہر ہو گيا پس اس سے بچ اور (۳)وہ جس ميں اختلاف ہو جائے پس اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دے۔''
(مجمع الزوائد،کتاب العلم، باب الامور ثلاثۃ ، الحدیث: ۷۱۲،ج۱،ص۳۹۰)
(13)۔۔۔۔۔۔حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی ايک جماعت سے مروی ہے کہ اللہ کے محبوب ،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک دن ہمارے پاس تشريف لائے اس وقت ہم دين کے کسی معاملے ميں جھگڑ رہے تھے، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم شديد غضبناک ہو گئے اس کی مثل پہلے کبھی غضب ناک نہ ہوئے تھے، پھر ہميں جھڑکا اور ارشاد فرمايا: ''اے اُمتِ محمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)! صبر سے کام لو، بے شک تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جھگڑنا چھوڑ دو کیونکہ اس میں خیر کی کمی ہے، جھگڑنا چھوڑ دو کيونکہ
Flag Counter