Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
399 - 857
کبيرہ نمبر69 :     قرآن کریم يا کسی دينی معاملے ميں 

         جھگڑنا اور غلبہ يا بلندی چاہنا
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' قرآنِ پاک ميں جھگڑا نہ کيا کرو کيونکہ اس ميں جھگڑنا کفر ہے۔''
(مسند ابی داؤدالطیالسی،الجزء التاسع،الحدیث:۲۲۸۶،ص۳۰۲)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ''قرآن ميں جھگڑنا کفر ہے۔''
(المستدرک،کتاب التفسیر،باب الجدال فی القرآن کفر،الحدیث:۲۹۳۸،ج۲،ص۵۹۶)
(3)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قرآنِ پاک ميں بيجا بحث کرنا کفر ہے۔''
        (سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ،باب النھی عن الجدال فی القرآن،الحدیث:۴۶۰۳،ص۱۵۶۱)
 (4)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''قرآن ميں جھگڑنے سے منع کيا گيا ہے۔''

(5)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قرآنِ پاک ميں جھگڑنا چھوڑ دو کيونکہ تم سے پہلی اُمتوں پر اسی وقت لعنت کی گئی جب انہوں نے قرآنِ پاک ميں اختلاف کيا، بے شک قرآنِ پاک ميں جھگڑنا کفر ہے۔''
 (مصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب فضائل القرآن ، باب من نھی عن التماری ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲،ج۷،ص۱۸۸،راویہ:''ابن عمرو'')
 (6)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قرآن ميں نہ جھگڑو کيونکہ اس ميں جھگڑنا کفر ہے۔''
                       (المعجم الکبیر،الحدیث:۴۹۱۶،ج۵،ص۱۵۲)
 (7)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قرآنِ پاک کے معاملے میں آپس میں نہ جھگڑو اور اللہ عزوجل کی کتاب کی بعض آيتوں سے ديگر آيتوں کو نہ جھٹلاؤ، اللہ عزوجل کی قسم! مؤمن قرآنِ پاک کے ذريعے جھگڑے گا تو غالب آجائے گا اور منافق قرآنِ پاک کے ذريعے جھگڑے گا تو مغلوب ہو جائے گا۔''
(کنز العمال،کتاب الاذکار،الحدیث:۲۸۵۶،ج۱،ص۳۰۷''تکذِّبوا''بدلہ'' تبدِّلوا'' ''فیغالب''بدلہ'' فیطلب'')
(8)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم
Flag Counter