Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
39 - 857
تمام گناہ کبیرہ ہوتے توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہرگز ایسا نہ فرماتے اور جس گناہ کا فساد بڑا ہو وہ کبیرہ کہلانے ہی کا مستحق ہے اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانِ عالی شان:
اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْعَنْکُمْ سَیِاٰتِکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے توتمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے۔(پ 5 ،النسآء : 31)

گناہوں کے صغیرہ اور کبیرہ دوقسموں میں منقسم ہونے پر صریح دلیل ہے۔ 

    امام غزالی علیہ حمۃاللہ الوالی اسی لئے فرماتے ہیں:''کبیرہ اورصغیرہ گناہوں کے مابین فرق کا انکار کرنا درست نہیں کیونکہ اس کی پہچان شریعت کے اُصولوں سے ہوچکی ہے ۔''

    صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کے درمیان فرق کے قائل حضرات کا گناہِ کبیرہ کی تعریف میں اختلاف ہے اور ہمارے شافعی علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔
پہلی تعریف:
    ''وہ گناہ جس کا مرتکب قرآن وسنت میں منصوص(یعنی صراحتاً بیان کی گئی )کسی خاص سخت وعید کا مستحق ہو۔''

    بعض متأخرین علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے وعید کے ساتھ سخت کی قید کو حذف کر دیا کیونکہ ان کا کہناہے کہ اللہ عزوجل کی ہر وعید سخت ہوتی ہے لہٰذا اس کا تذکرہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور دوسرا یہ کہ اس تعریف میں یہ تصریح بھی کی گئی ہے کہ وہ وعید کتاب و سنت میں ہو، یہ بھی بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وعید ہوتی ہی وہ ہے جو کتاب وسنت میں موجودہو۔
دوسری تعریف:
 ''ہر وہ گناہ جو حد کو واجب کرے وہ کبیرہ ہے۔'' سیدناامام بغوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ اسی تعریف کے قائل ہیں،جبکہ سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''یہ دونوں وہ تعریفیں ہیں جو اکثر کتب میں پائی جاتی ہیں، لہٰذا علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم اس تعریف کو ترجیح دینے میں میلان رکھتے ہیں مگر پہلی تعریف ان کی بیان کردہ کبیرہ گناہوں کی تفصیل کی وجہ سے زیادہ مناسب ہے اس لئے کہ علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم نے بیان کیا ہے کہ بہت سے کبیرہ گناہ ایسے ہیں جن میں حدواجب نہیں ہوتی جیسے سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، والدین کی نافرمانی کرنا، قطع رحمی کرنا، جادو کرنا، چغل خوری، جھوٹی گواہی دینا، شکوہ کرنا، بدکاری کی دلالی کرنا اور بے غیرتی وغیرہ ۔

    اس سے پتہ چلاکہ پہلی تعریف دوسری تعریف سے زیادہ صحیح ہے ۔ سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے اس فرمان کو ''الحاوی الصغیر'' کے مصنف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بھی نقل کیا ہے کہ''علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم دوسری تعريف کو ترجیح دینے کی
Flag Counter