Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
398 - 857
اس پر عمل ترک کر دينا ہی ہے جيسا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَلَقَدْ عَہِدْنَاۤ اِلٰۤی اٰدَمَ مِنۡ قَبْلُ فَنَسِیَ
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ايک تاکيدی حکم ديا تھا تو وہ بھول گيا۔(پ16، طٰہٰ:115)

    سیدنا ابو شامہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :''قيامت کے دن قرآنِ پاک کی دو حالتيں ہوں گی: (۱)جس نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کرنا نہ بھولا قرآن اس کی شفاعت کریگا اور (۲)جو اسے بھلا دے گا يعنی سستی کے باعث اس پر عمل کرنا چھوڑ دے گا قرآنِ پاک اس کی شکايت کریگا اور جس نے سستی کرتے ہوئے اس کی تلاوت بھلا دی اس کا بھی يہ حال ہونا بعيد نہيں۔'' 

    گذشتہ احاديثِ مبارکہ ميں مذکور نسيان(یعنی بھلا دینے )سے يہی ظاہر ہوتا ہے اور اس سے ان کے گمان کی بجائے يہی مراد ہے عنقريب بخاری شريف کی کتاب الصلوٰۃکی حدیثِ پاک ميں قرآنِ پاک ياد کر کے بھلا دينے اور فرض نماز سے غفلت بَرَت کر سوئے رہنے والے کے بارے ميں ايک سخت عذاب کی وعيد ذکر ہو گی اور يہ نسيان قرآنِ کریم کے معاملے ميں بالکل ظاہر ہے۔
تنبیہ5:
    سیدناامام قرطبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :''يہ نہيں کہا جائے گا کہ جب پورا قرآن حفظ کرنا فرضِ عين نہيں تو اسے بھلا دينے والے کی مذمت کيوں کی جاتی ہے؟'' کيونکہ ہم تو يہ کہتے ہيں کہ جو قرآن پاک ياد کرتا ہے اس کا مرتبہ بلند ہو جاتا ہے اور وہ اپنی ذات اور قوم ميں معزز ہو جاتا ہے اور ایسا کيونکر نہ ہو کہ جس نے قرآن کریم ياد کر ليا اس کے پہلو ميں نبوت کا فيضان رکھ ديا گيا اور وہ ان لوگوں ميں شامل ہو گيا جنہيں اہل اللہ اور مقرب کہا جاتا ہے، تو جس کا مرتبہ ايسا ہو اور وہ اپنے مرتبے ميں کوتاہی کرے تو اس کی سزا کا سخت ہونا ہی مناسب ہے اور اس سے ايسی باتوں پر مؤاخذہ ہو گا جن پر دوسروں سے مؤاخذہ نہ ہو گا اور قرآن پاک کی تلاوت ترک کرنے کی عادت جہالت کا سبب ہے۔
Flag Counter