ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ايک تاکيدی حکم ديا تھا تو وہ بھول گيا۔(پ16، طٰہٰ:115)
سیدنا ابو شامہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :''قيامت کے دن قرآنِ پاک کی دو حالتيں ہوں گی: (۱)جس نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کرنا نہ بھولا قرآن اس کی شفاعت کریگا اور (۲)جو اسے بھلا دے گا يعنی سستی کے باعث اس پر عمل کرنا چھوڑ دے گا قرآنِ پاک اس کی شکايت کریگا اور جس نے سستی کرتے ہوئے اس کی تلاوت بھلا دی اس کا بھی يہ حال ہونا بعيد نہيں۔''
گذشتہ احاديثِ مبارکہ ميں مذکور نسيان(یعنی بھلا دینے )سے يہی ظاہر ہوتا ہے اور اس سے ان کے گمان کی بجائے يہی مراد ہے عنقريب بخاری شريف کی کتاب الصلوٰۃکی حدیثِ پاک ميں قرآنِ پاک ياد کر کے بھلا دينے اور فرض نماز سے غفلت بَرَت کر سوئے رہنے والے کے بارے ميں ايک سخت عذاب کی وعيد ذکر ہو گی اور يہ نسيان قرآنِ کریم کے معاملے ميں بالکل ظاہر ہے۔