| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
کبيرہ ہونے کے قول کو اختيار کرنے کا تذکرہ نہيں کيا جبکہ سیدنا علائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کا تذکرہ کيا ہے اور اس سے سیدنا زرکشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول کا بھی رد ہوتا ہے کہ انہوں نے الروضۃ ميں قرآنِ کریم بھلا دينے کے کبيرہ گناہ ہونے کے معاملے ميں سیدنا امام رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مخالفت کی ہے۔
تنبیہ3:
علامہ خطابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ حضرت سیدنا ابوعبيدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لفظ''اجذم ''سے کٹے ہوئے ہاتھ والا شخص مراد لیا ہے جبکہ سیدنا ابن قتيبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہيں کہ'' اجذم''سے مراد کوڑھی ہونا ہے اور سیدنا ابنِ اعرابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ اس کا مطلب ہے کہ نہ تو اس کے پاس کوئی حجت ہو اور نہ اس ميں کوئی بھلائی، سیدنا سويد بن غفلہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی يہی معنی منقول ہے۔
تنبیہ4:
سیدنا جلال بلقينی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور سیدنا زرکشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغيرہ فرماتے ہيں کہ جن لوگوں نے اسے کبيرہ گناہ قرار ديا ہے ان کے نزديک يہ اس وقت کبيرہ ہو گا جب کوئی لاپرواہی اورسستی کرتے ہوئے اسے بھلائے گا گويا انہوں نے اپنی اس بات سے بے ہوشی اور قرآنِ کریم کی تلاوت سے روکنے والے مرض کو خارج کر ديا ہے، ايسی صورت ميں بندے کا گناہ گار نہ ہونا بالکل واضح ہے کيونکہ وہ اس صورت ميں مجبور ہے اور کوئی اختيار نہيں رکھتا جبکہ ايسے مرض کی صورت ميں قرآنِ پاک سے غفلت اختيار کرنے سے بندہ گناہ گار ہو گا جس کی موجودگی تلاوتِ قرآنِ کریم سے رُکاوٹ نہيں، اگرچہ اس کی غفلت ايسی چيز کے سبب ہو جو تلاوتِ قرآنِ کریم سے اہم اور مؤکد ہو، جيسے فرض علوم وغيرہ کيونکہ علم سيکھنے کی يہ شان نہيں کہ اس کی وجہ سے بندہ ياد کئے ہوئے قرآنِ کریم سے اتنی غفلت برتے کہ اسے بھلا ہی دے، علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اس قول :''قرآنِ کریم کی ايک آيت بھی بھلا دينا کبيرہ گناہ ہے۔'' سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نے يقين کی درمیانی صفت کے ذريعے اسے ياد کر ليا يعنی جو اس ميں توقف کرتا ہو يا اکثر غلطی کرتا ہو اس پرواجب ہے کہ اسی صفت پر قائم رہے، لہٰذا اسے اپنے حافظے ميں کمی کرنا حرام ہے جبکہ اس ميں اضافہ کرنا اگرچہ ايک مؤکد امر ہے اور مزيد سہولت کے حصول کے لئے ا س پر توجہ دينی چاہے مگر ايسا نہ کرنا گناہ ثابت نہيں کرتا۔
سیدناامام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اُستاد اور سیدنا ابن صلاح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے شاگرد سیدنا ابو شامہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قرآنِ کریم بھلا دينے کے بارے ميں وارد احاديث کو قرآنِ کریم پر عمل تر ک کر دينے پر محمول کيا ہے کيونکہ بھلا دينے سے مراد دراصل