| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوئی حدیثِ پاک نہيں سنی، لہٰذا يہ حدیثِ پاک اس سند کے مطابق ثابت نہيں اور يہ جو کہا گيا ہے کہ انہوں نے کسی صحابی سے کوئی حدیثِ پاک نہيں سنی تواس کاردحافظ منذری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا يہ قول کرتا ہے کہ انہوں نے حضرت سیدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔''
اوراس حدیثِ پاک :''جو قرآن کریم پڑھے پھر اسے بھلا دے تو قيامت کے دن اللہ عزوجل سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔'' ميں اِنقطاع اور اِرسال دونوں ہيں، نیز سیدنا امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سکوت پر يہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس ميں يزيد بن ابی زياد ہے اور بہت سے محدثين کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزديک اس کی حدیثِ پاک سے حجت پکڑنا درست نہيں، مگر ابو عبيد آجری سیدناامام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے سے کہتے ہيں :''ميں کسی کو نہيں جانتا جس نے ان کی حدیثِ پاک چھوڑی ہو مگر ان کے علاوہ ديگر راوی مجھے ان سے زيادہ پسند ہيں۔'' ابن عدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہيں :''يہ اہلِ کوفہ کے شيعوں ميں سے تھا اس کے ضعف کے باوجود اس کی روایات لکھی جاتی ہيں۔''تنبیہ2:
الروضۃکی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ يہ سیدنا امام رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گذشتہ قول يعنی اس کے کبيرہ ہونے کے موافق ہے کيونکہ انہوں نے حکم ميں اس پر کوئی اعتراض نہيں کيا، صرف حدیثِ پاک کے ضعف کا افادہ فرما ديا، اسی لئے الروضۃ کو مختصر کرنے والے اور ديگر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اسی طريقہ پر چلے اور اسی سے سیدنا صلاح علائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا القواعد ميں بيان کردہ قول واضح ہو جاتا ہے کہ سیدنا امام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :''ميرا قرآن کریم بھلانے کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کرنا اس ميں وارد حدیثِ پاک کی وجہ سے ہے۔'' ان کے اس قول کو اختيار کرنے کی وجہ سے سیدنا امام رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے برقرار رکھا اور يہ ان کے اختيار اور اعتماد سے ظاہرہے، البتہ ان کا یہ قول محلِ نظر ہے :''اس ميں حدیثِ پاک وارد ہوئی ہے۔''کيونکہ انہوں نے اس حدیثِ پاک کی وجہ سے اسے گناہ کبيرہ نہيں کہا اور وہ کہہ بھی کيسے سکتے ہيں کہ خود ہی تو اس کے ضعف اور اس ميں کئے گئے طعن کی نشاندہی کی،سیدنا امام رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لئے اسے برقرار رکھنے کا سبب معنٰی کے اعتبار سے ہے اگرچہ اس کی دليل ميں اِنقطاع و اِرسال وغيرہ ہے اور بعض اوقات اس روایت کے تعددِ طرق سے اس کمی کو پورا کر ليا جاتا ہے۔
مَیں نے سیدنا علائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کلام ميں سابقہ جہت کے مطابق محلِ نظر ہونے کے باوجود اس کی جو توجيہہ بيان کی ہے وہ علامہ جلال بلقينی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول سے معلوم ہوئی تھی، انہوں نے سیدنا امام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کلام ميں اس کے