قرآنِ پاک بھلا دينے کو سیدنا امام رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغيرہ کی اتباع ميں کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ الروضۃ ميں ارشاد فرماتے ہيں :'' سیدناامام ابو داؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ اس حديثِ پاک کی سند ضعيف ہے کہ ''مجھ پر ميری اُمت کے گناہ پيش کئے گئے تو ميں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہيں پايا کہ آدمی کو قرآنِ پاک کی کوئی سورت يا آيت دی گئی پھر اس نے اسے بھلا ديا۔''اور سیدنا امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خود اس پر کلام فرمايا ہے۔''
سیدناامام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جس قول کی طرف سیدنا رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اشارہ کيا ہے وہ یہ ہے :''يہ حدیثِ پاک غريب ہے ہم اس سند کے علاوہ اس کی دوسری سند نہيں جانتے اور ميں نے سیدنا امام محمد بن اسماعيل بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اس حدیثِ پاک کے بارے ميں پوچھا تو وہ بھی اسے نہيں جانتے تھے انہوں نے اس حدیثِ پاک کو غريب قرار ديااور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشادفرمایا:''ہم مُطَّلِبْ بن حَنْطَبْ کے کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیثِ پاک سننے کے بارے ميں نہيں جانتے، سیدناابو عبد اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :''سیدنا علی بن مدينی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مُطَّلِب کے حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیثِ پاک سننے کا انکار کيا ہے۔''
اس تفصيل سے سیدنا امام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اس قول کہ ''اس کی ا سناد ميں ضعف يعنی انقطاع ہے۔''کا مطلب بھی ظاہر ہو گيا کيونکہ اس کے راوی مطَّلب ميں کوئی ضعف نہيں کیونکہ ايک جماعتِ محدثين نے انہيں ثقہ قرار ديا ہے۔ مگر سیدنا محمد بن سعيد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:''اس کی حدیثِ پاک سے استدلال نہيں کيا جا سکتا کيونکہ وہ اکثرنبی کریم ،رؤف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ارسال(یعنی جس حدیث کی سند کے آخر سے راوی ساقط ہوں ) کرتا ہے حالانکہ اسے ملاقات کا شرف حاصل نہيں ہوا۔'' اور سیدناامام دار قطنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بيان کيا ہے :''اس روایت ميں ايک اور انقطاع بھی ہے وہ يہ ہے کہ اسی مُطِّلْب سے روايت کرنے والے راوی سیدنا ابن جريج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مُطِّلبْ سے کوئی حدیثِ پاک سنی ہی نہيں جيسا کہ مطَّلب نے حضرت سیدنا