Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
394 - 857
حدث کا بيان
کبيرہ نمبر68: قرآن کی کوئی سورت، آيت يا حرف بھلا دينا
 (1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' مجھ پر ميری اُمت کے اَجر پيش کئے گئے يہاں تک کہ آدمی مسجد سے جو پر يا بال نکالتا ہے اس کا اَجر بھی پيش کيا گيا اور مجھ پر ميری اُمت کے گناہ پيش کئے گئے تو ميں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہ پايا کہ آدمی کو قرآن پاک کی کوئی سورت يا آيت دی گئی پھر اس نے اسے بھلا ديا۔''
    (جامع الترمذی،ابواب فضائل القرآن ،باب لم أر ذنبا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۱۶، ص۱۹۴۴)
 (2)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناسعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو شخص قرآن پڑھے اور پھر اسے بھلا دے وہ قيامت کے دن اللہ عزوجل سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔''
 (سنن ابی داؤد،کتاب الوتر، باب التشدید فیمن حفظ القرآن ثم نسیہ ، الحدیث: ۱۴۷۴،ص۱۳۳۲)
 (3)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قيامت کے دن ميری اُمت کو جن گناہوں کی سزا ملے گی ان ميں سب سے بڑاگناہ يہ ہے کہ ان ميں سے کسی کو کتاب اللہ عزوجل کی کوئی سورت ياد تھی پھر اس نے اسے بھلا ديا۔''        

(4)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا وليدبن عبد اللہ بن ابو مغيث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھ پر گناہ پيش کئے گئے تو ميں نے قرآن پڑھ کر بھلا دينے والے کے گناہ سے بڑا کوئی گناہ نہيں ديکھا۔''
    (مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب فضائل القرآن،باب فی نسیان القرآن،الحدیث:۴،ج۷،ص۱۶۳)
 (5)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو قرآن پڑھے پھر اسے بھلا دے وہ اللہ عزوجل سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔''
 (المرجع السابق،الحدیث:۱،ج۷،ص۱۶۲''سعد''بدلہ ''سعید'')
Flag Counter