Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
38 - 857
    جمہور علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہیں:'' گناہ کی دو قسمیں ہیں: (۱)صغیرہ یعنی چھوٹے گناہ اور(۲)کبیرہ یعنی بڑے گناہ۔ ''

    ان دونوں فریقوں کے نزدیک ان کے معنی میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ اختلاف تو ان کے صغیرہ یا کبیرہ نام رکھے جانے میں ہے، کیونکہ اس بات پر تو سب کا اجماع ہے کہ بعض گناہ آدمی کی عدالت(یعنی گواہ بننے کی صلاحیت) کو عیب دار کردیتے ہیں جبکہ بعض گناہ عدالت میں نقص نہیں ڈالتے، لہٰذا پہلے گروہ نے گناہ کو صغیرہ کہنے سے اجتناب کیا اوراس نے اللہ عزوجل کی عظمت اور اس کے عقاب کی سختی کی طرف دیکھتے ہوئے اور اس کی جلالت کی وجہ سے اس کی نافرمانی کو صغیرہ نہ کہا کیونکہ گناہِ صغیرہ اللہ عزوجل کی عظمت کے پیشِ نظر نہ صرف بڑا بلکہ بہت بڑا ہے ۔

    جمہور علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس مفہوم پر کچھ زیادہ غوروفکر نہیں کیا، کیونکہ یہ ایک بدیہی اور واضح بات ہے بلکہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوۡقَ وَ الْعِصْیَانَ ؕ
ترجمۂ کنزالا یمان:اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کردی۔(پ 26 ، الحجرٰت :7)

کی وجہ سے گناہوں کو دو قسموں یعنی صغیرہ اور کبیرہ میں تقسیم کردیا ۔اس آیت کریمہ میں اللہ عزوجل نے نافرمانی کے تین درجے بیان فرمائے اور ان میں سے بعض کوفسوق یعنی حکم عدولی کہا جبکہ بعض کو فسق سے تعبیر نہ فرمایا۔نیزان علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰنے اللہ عزوجل کے اس فرمان سے بھی اِستدلال کیا ہے:
اَلَّذِیۡنَ یَجْتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:وہ جوبڑے گناہوں اوربے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتناکہ گناہ کے پاس گئے اور رُک گئے۔(پ27،النجم :32)

    عنقریب ایک صحیح حدیث مبارکہ پیش کی جائے گی جس میں بیان کیا گیاہے کہ''کبیرہ گناہ سات ہیں۔''

    ایک روایت میں ہے کہ''کبیرہ گناہ نوہیں۔''

     ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ''یہاں سے لے کر وہاں(مثلاً ایک نماز سے دوسری نماز) تک بیچ کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں جب تک بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتارہے۔''

    چونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کبیرہ گناہوں کو دیگر گناہوں سے خاص فرمادیا ہے لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اگر
Flag Counter