| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(3)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم منبرِاقدس پر رونق افروزہوئے تو تین مرتبہ آمین کہا، پھر ارشاد فرمایا :''کیا تم جانتے ہو کہ میں نے آمین کیوں کہا؟'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بہتر جانتے ہیں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' جبریل امین علیہ السلام نے میرے پاس آ کر دعا مانگی :''جس کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذکر ہو اور وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود پا ک نہ بھیجے تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دور فرمائے اور ہلاکت میں مبتلا فرمائے۔'' میں نے آمین کہااور''جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پایا پھر ان کی خدمت نہ کر کے جہنم میں داخل ہوا اللہ عزوجل اسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے اور ہلاکت میں مبتلا فرمائے۔'' میں نے کہاآمین۔ اور''جس نے رمضان کو پایا پھر بھی اس کی بخشش نہ ہوئی اور وہ جہنم میں داخل ہوا تو اللہ عزوجل اسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے اور ہلاکت میں مبتلا فرمائے۔'' تو میں نے کہا آمین۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۱۲۵۱،ج۱۲،ص۶۵)
(4)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مسجد میں داخل ہو کر منبرِ انور پر رونق افروز ہوئے تو ارشاد فرمایا:''آمین !آمین! آمین! ''پھر جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لے جانے لگے تو عرض کی گئی''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! ہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ایسا کام کرتے دیکھا جو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پہلے کبھی نہيں کيا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' جبریلِ امین علیہ السلام نے میرے سامنے ظاہر ہو کر عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! جس نے اپنے والدین کو پایا، پھر انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایا تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دوراورمزيددورفرمائے۔'' میں نے آمین کہا، دوسرے زینے پر قدم مبارک رکھتے وقت جبریلِ امین علیہ السلام نے دعا مانگی :''جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ کی گئی تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دور فرمائے،مزيد دور(اور محروم) فرمائے۔'' تو میں نے آمین کہا، تیسرے زینے پر قدم مبارک رکھتے وقت جبریلِ امین علیہ السلام میرے سامنے ظاہر ہوئے اور دعا مانگی :''جس کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذکر ہو اور وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درودِ پاک نہ پڑھے تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دور فرمائے،مزيد دور فرمائے۔'' تو میں نے کہاآمین۔''
(مجمع الزوائد ، کتاب الادعیۃ،باب فیمن ذکر عندہ فلم یصل علیہ، الحدیث:۱۷۳۱۴،ج۱۰،ص۲۵۷)
(5)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم منبرانور پر رونق افروز ہوئے تو فرمایا :''آمین! آمین! آمین!'' عرض کی گئی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے منبرِ اقدس پر چڑھتے وقت آمین کہا؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' جبریلِ امین علیہ السلام نے میرے پاس آ کر کہا:''جس نے رمضان کا مہینہ پایا پھر اس