(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''منبر انور کے قریب آجاؤ۔'' تو ہم منبر شریف کے قریب حاضر ہو گئے، جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پہلے زینے پر قدم مبارک رکھا تو ارشاد فرمایا:''آمین۔''جب دوسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو ارشاد فرمایا:''آمین۔'' اور جب تیسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو ارشاد فرمایا:''آمین۔'' پھر جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم منبر شریف سے نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کی:''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آج ہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ایسی بات سنی ہے جو پہلے کبھی نہ سنی تھی۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' جبریلِ امین علیہ السلام میرے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی :''جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی وہ (اللہ عزوجل کی رحمت سے) دور ہو۔'' تو میں نے کہا''آمین'' جب میں نے دوسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو جبریلِ امین علیہ السلام نے عرض کی :''جس کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذکر ہوا اور اس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود نہ پڑھا وہ بھی ( رحمتِ الٰہی عزوجل سے) دور ہو۔''تو میں نے کہا''آمین'' پھر جب میں نے تیسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو جبریلِ امین علیہ السلام نے عرض کی:''جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھا پے میں پایا پھر انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کیا تو وہ بھی (اللہ عزوجل کی رحمت سے) دور ہو۔'' تو میں نے کہا''آمین۔''