| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے، مگر چونکہ یہ بعید ہے لہٰذا اس سے اللہ عزوجل کی نعمت کا انکار مراد لینا متعین ہو گیا کیونکہ وہی حقیقی مُحسِن ہے اور اسے ایسے محسن کے احسان جھٹلانے پر محمول کرنا بھی ممکن ہے جس کے حقوق کی رعایت کرنا واجب ہے جیسے شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا اور نسائی شریف کی حدیثِ مبارکہ سے اس پر استدلال ہوتا ہے (1)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اللہ عزوجل اس عورت پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا جو اپنے شوہر کا شکر ادا نہیں کرتی حالانکہ وہ اپنے شوہر سے بے نیاز بھی نہیں۔''
(المستدرک،کتاب النکاح ، باب لاینظراللہ الی امراۃ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۸۲۵،ج۲،ص۵۴۸)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے عورتوں کے کثرت سے جہنم میں جانے کا سبب ان کے اپنے شوہروں کی نعمتوں سے انکار کو قرار دیا۔
(2)۔۔۔۔۔۔اورارشاد فرمایا :''اگر شوہر اپنی کسی بیوی سے ساری عمر حسنِ سلوک سے پیش آئے پھر وہ شوہر میں کوئی عیب دیکھ لے تب بھی یہی کہتی ہے میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پائی۔''
بلاشبہ ان دونوں ا حادیث میں جو وعید بیان ہوئی وہ بہت ہی سخت ہے، لہٰذا شوہر کے احسان کو جھٹلانے کا کبیرہ گناہ ہونا ممکن ہے اور بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے احسان فراموشی کو مطلق رکھنے پر اس حدیثِ مبارکہ سے استدلال کیاہے کہ،
(3)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ عزوجل کا شکرگزار نہیں ہو سکتا۔''(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی شکر المعروف، الحدیث: ۴۸۱۱،ص۱۵۷۷)
شکریہ ادا کرنے کا طریقہ:
شکریہ کسی چیز کا بدلہ دے کر یا تعریف یا دعا کر کے ادا کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ترمذی شریف کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ، (4)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فرمانِ عالیشان ہے :''جسے کوئی چیز عطا کی گئی اگر وہ استطاعت رکھے تو اس کا بدلہ دے، اگر استطاعت نہ ہو تو اس کی تعریف کر دے کیونکہ جس نے تعریف کی اس نے شکر ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی۔''
(جامع الترمذی،ابواب البر والصلۃ،باب ماجاء فی المتشبع۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۰۳۴،ص۱۸۵۵)
مگر ان کا یہ استدلال ان کا مؤ يد نہیں بلکہ اسے ہماری بیان کردہ تفصیل ہی پر محمول کیا جائے گا۔