Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
373 - 857
(5)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ ''انسان یہ کہہ کر مجھے ايذاء ديتا ہے :''اے زمانے !تیرا برا ہو۔'' لہٰذا تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا نہ کہا کرے کیونکہ میں ہی زمانہ (بنانے والا) ہوں اس کے دن رات میں ہی پھیرتا ہوں۔''
(صحیح مسلم، کتاب الالفاظ من الادب، با ب النھی عن سب الدھر، الحدیث: ۵۸۶۴،ص۱۰۷۷)
(6)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تم میں سے کوئی شخص زمانے کوبرا نہ کہا کرے کیونکہ اللہ عزوجل ہی زمانہ (بنانے والا) ہے۔''
    (المرجع السابق، الحدیث: ۵۸۶۵)
(7)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:'' میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا تو اس نے مجھے قرض نہ دیا اور میرابندہ بے خبری میں مجھے گالی دیتا ہے وہ کہتا ہے: ''ہائے زمانہ! ہائے زمانہ! ''حالانکہ زمانہ(بنانے والا) تو مَیں ہوں۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابی ہریرہ ،الحدیث: ۷۹۹۴،ج۳،ص۱۶۱)
(8)۔۔۔۔۔۔نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''زمانہ کو برا نہ کہا کرو کیونکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : ''میں زمانہ(بنانے والا) ہوں اس کے دن اور رات کو میں ہی تازہ کرتا ہوں اور میں ہی انہیں بوسیدہ کرتا ہوں اور میں ہی ایک بادشاہ کے بعد دوسرا بادشاہ لاتا ہوں۔''
تنبیہ:
    ان احادیثِ مبارکہ کے ظاہری مفہوم کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور خصوصًا اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان کی وجہ سے :''میرا بندہ مجھے گالی دیتا ہے۔'' اللہ عزوجل نے زمانہ کو گالی دینے کو اپنی برائی قرار دیا یعنی ارشاد فرمایا: '' زمانے کو برا کہنا دراصل اللہ عزوجل کو برا کہنا ہے اور یہ کفر ہے اور جو چیز کفر کی طرف لے جانے والی ہو اس کا ادنیٰ مرتبہ گناہِ کبیرہ ہوتا ہے، مگر ہمارے شافعی ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا کلام اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ یہ صرف مکروہ ہے نہ کہ حرام چہ جائیکہ کبیرہ گناہ ہو، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے :''جوزمانے کو برا کہتے وقت زمانہ مراد لیتا ہے تو اس کے مکروہ ہونے میں کوئی کلام نہیں اور جو اس سے اللہ عزوجل کی برائی کا ارادہ کرتا ہے اس کے کفر میں کوئی کلام نہیں اور اگر وہ کوئی ارادہ کئے بغیر زمانہ کو برا کہتا ہے تو یہی صورت محلِ شک ہے کیونکہ اس میں کفر اور غیرکفر دونوں کا احتمال ہے ، ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا ظاہری کلام اس بارے میں بھی کراہیت ہی کا ہے کیونکہ زمانے کو برا کہنے سے جو بات فوراً سمجھی جاتی ہے وہ زمانہ ہی ہے اور اس لفظ کا اللہ عزوجل پراطلاق
Flag Counter