Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
372 - 857
راستے پر چلائے، جان لے کہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے گوشت زہر آلود ہیں اور ان کی عزت دری(یعنی توہين)کے معاملہ میں اللہ عزوجل کی عادت معلوم ہے کہ جو علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو ملامت کریگا اللہ عزوجل اسے موت سے پہلے ہی مردہ دلی میں مبتلا کر دے گا:
 فَلْیَحْذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنْ اَمْرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیۡبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿63﴾
ترجمۂ کنز الایمان:توڈریں وہ جورسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پردرد ناک عذاب پڑے۔(پ18، النور:63)
کبیرہ نمبر57:     گردشِ اَیَّام کے سبب زمانے کو برا کہنا
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:''آدمی زمانے کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ زمانہ(بنانے والا) تو میں ہوں اور اس کے دن،رات میرے ہی قبضۂ قدرت میں ہیں۔''
(صحیح البخاری،کتاب الادب،باب لاتسبواالدھر،الحدیث:۶۱۸۱،ص۵۲۱)
(2)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : '' اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ مَیں ہی اس(یعنی زمانہ )کے دن،رات پھیرتا ہوں اور جب میں چاہتاہوں ان دونوں کو روک ديتا ہوں۔''
(صحیح مسلم،کتاب ا لالفاظ من الادب، با ب النھی عن سب الدھر، الحدیث: ۵۸۶۴،ص۱۰۷۷)
(3)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تم میں سے کوئی زمانے کوگالی نہ دے کیونکہ اللہ عزوجل ہی زمانہ (بنانے والا) ہے۔''
    (المرجع السابق، الحدیث: ۵۸۶۷،ص۱۰۷۷)
(4)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ کریم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''انگور کی بیل کو کَرْم نہ کہو ۱؎ اور نہ ہی یہ کہو کہ زمانے کا برا ہو کیونکہ اللہ عزوجل ہی زمانہ (بنانے والا) ہے۔''
 (صحیح البخاری،کتاب الادب، باب لاتسبوالدھر،الحدیث:۶۱۸۲،ص۵۲۱)
۱؎ :حکیم الا ُمت مفتی احمدیارخان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ العلی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:''اہل عرب انگور کو اس لئے کَرْم کہتے تھے کہ اس سے شراب بنتی تھی، شراب پی کر انسان نشہ میں بہت سخی بن جاتا ہے کہ اپنامال جائز و ناجائز کاموں میں خوب اُڑاتا ہے، وہ سمجھتے تھے انگور شراب کی اصل ہے اور شراب کرم و سخاوت کی اصل،لہٰذا انگور گویا سراپا کرم و سخاوت ہے جب شراب حرام کی گئی تو انگور کو کرم کہنے سے منع کر دیا گیا اور فرمایا گیا : کرم تو مؤمن کا قلب یا خو د مؤمن ہے،تم ایسا اچھا نام ایسی خبیث چیز کو کیوں کہتے ہو ۔عربی میں اچھی زمین ،انگور ،حج،جہاد سب کو کرم کہتے ہیں۔'' (مرأۃ المناجیح،ج۶،ص۴۱۲،۴۱۳)
Flag Counter