Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
374 - 857
کرنا جوازی ہے، اسی وجہ سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس حدیثِ مبارکہ کا یہ معنی بتایا ہے کہ عربوں پر جب کوئی آفت نازل ہوتی یا مصیبت آتی تو وہ یہ اعتقاد کرتے ہوئے زمانے کو برا کہتے :''انہیں یہ مصیبت زمانے کی وجہ سے پہنچی ہے۔'' جیسا کہ وہ ستاروں سے بارش مانگتے اور کہتے :''ہمیں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش حاصل ہوئی۔'' اور یہی اعتقاد رکھتے :''اس کے فاعل وہی ستارے ہیں۔'' اور یہ اعتقاد فاعلِ حقیقی پر لعنت کرنے کی طرح ہے، اور چونکہ ہر چیز کا فاعل اورخالق اللہ عزوجل ہی ہے اس لئے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ 

    پھرمیں نے بہت سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو یہ کہتے دیکھا :''نازل ہونے والی آفت میں زمانے کی تاثیر کا اعتقاد رکھ کر زمانے کو برا کہنا کبیرہ گناہ ہے۔'' اور پیچھے جو بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسا اعتقا د کفرہے حالانکہ اس میں کوئی کلام نہیں اس بناء پر یہ بات محلِ نظر ہے۔

    علامہ ابن داؤد نے محدثین کی اس روایت کا انکار کیا ہے کہ جس میں اَنَا الدَّھْرُکے الفا ظ (یعنی' 'را'' پرپیش کے ساتھ) مروی ہیں، وہ کہتے ہیں :''اگر ایسا ہوتا تو دَھْر،اللہ عزوجل کے ناموں میں سے ایک نام ہوتا۔'' لہٰذا وہ جو روایت بیان کرتے ہیں اس میں اَنَا الدَّھْرَ(یعنی'' را'' پر زبر) ہے اور اس کا معنی یہ ہے :''میں ہی زمانے کے دن رات کو بدلتا ہوں۔'' اس صورت میں الدھر،اقلب کی ظرف ہے، بعض دیگر افراد نے بھی ان کی پیروی کی اور را کی زبر کو راجح قرار دیا، مگر یہ درست نہیں کیونکہ یہ روایت کہ ''اللہ عزوجل ہی دہرہے۔'' ان کے گمان کو باطل کر رہی ہے، اسی لئے جمہورکا مؤقف یہی ہے کہ را پر پیش ہے اور ابن داؤد کے گمان سے ہمارے مؤقِّف پر یہ اعتراض لازم نہیں آتا کہ دَھْراللہ عزوجل کے ناموں میں سے ایک نام ہونا چاہے کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اللہ عزوجل پردَھْرکا لفظ جوازاً بولا جاتا ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمان عالیشان میں مؤثرکو اثرکی تعظیم اوراس کی برائی سے روکنے میں شدت پیدا کرتے ہوئے عین اثربنا دیا ہے۔