| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
انہیں نیکیوں میں سبقت اور فضیلت والے احوال ومقامات کی راہ دکھا دی تھی، اسی وجہ سے یہ حضرات اس بات کے حقدار ہو گئے کہ اللہ عزوجل انہیں اپنے در سے دور نہ کرے اور اپنے محبوب بندوں کے سامنے ان کی مدح کا اعلان کرے کیونکہ مساجد ان کا ٹھکانا، اللہ عزوجل ان کا مطلوب اورمولیٰ، بھوک ان کی غذا، رات میں جب لوگ سو جائیں تو شب بیدا ری کرنا ان کی ترکاری (یعنی سالن) اور فقر وفاقہ ان کا شعار اورغربت وحیا ان کی پونجی تھی، ان کا فقر وہ عام فقر نہ تھا جو اللہ عزوجل کا مطلق محتا ج ہونا ہے کیونکہ یہ تو ہر مخلوق کی صفت ہے اور اللہ عزوجل کے اس فرمان میں بھی یہی فقر مراد ہے :
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَی اللہِ ۚ
ترجمۂ کنز الایمان: اے لوگو!تم سب اللہ کے محتاج۔(پ22، فاطر:15)
بلکہ ان کا فقر وہ خاص فقر تھا جو اولیاء اللہ اور مقربینِ بارگاہِ اَيزدِی کا شعار ہے اوروہ یہ ہے کہ دل کا غیر کے تعلق سے خالی ہونا اور تمام حرکات وسکنات میں اللہ عزوجل کے مشاہدے سے نفع اٹھانا، اللہ عزوجل ہمیں ان کی محبت کے حقائق سے سرفراز فرما کر ان کے گرہ میں اٹھائے۔'' آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمتنبیہ:
اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح کی ہے اور یہ اس سخت تر وعید سے بالکل ظاہر ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنی محاربت یعنی جنگ کو صرف سود کھانے اور اولیاء کرام سے عداوت رکھنے کے معاملے میں ذکر فرمایا ہے اور جس سے اللہ عزوجل محاربت فرمائے وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتا بلکہ ضروری ہے کہ اس کی موت کفر پر ہو(اَلْعَیَاذُبِاللہِ) اللہ عزوجل ہمیں اپنے فضل وکرم سے اس گناہ سے عا فیت عطا فرمائے۔''
آمين، بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم
میں نے علامہ زرکشی کو دیکھا کہ انہوں نے الخادم میں مذکورہ حدیثِ پاک ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا :''اس شدید وعید میں غور کرنے کے بعد اس سے ملی ہوئی سود کھانے پر وارد وعید پر بھی غور کر لو کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:فَاِنۡ لَّمْ تَفْعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ ۚ
ترجمۂ کنز الایمان:پھراگرایسا نہ کروتویقین کرلواللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا۔(پ3، البقرۃ:279)
احناف کے''فتاوی بديعی'' میں ہے :''جس نے کسی عالم کے حقوق کو ہلکا جانا(بطورِعلم) اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور اس کے اس عمل نے گویا اسے مرتد کر دیا۔''
امام حافظ ابن عساکررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :''اے میرے بھائی ! اللہ عزوجل ہم دونوں کو توفیق بخشے اور بھلائی کے