| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
اَنۡ یُّؤْتِیَنِ خَیۡرًا مِّنۡ جَنَّتِکَ وَ یُرْسِلَ عَلَیۡہَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیۡدًا زَلَقًا ﴿ۙ40﴾
سے اچھا دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں اتارے تو وہ پٹ پر میدان(سفیدزمین) ہو کر رہ جائے۔(پ15، الکھف:37تا40)
(5) اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُہَا غَوْرًا فَلَنۡ تَسْتَطِیۡعَ لَہٗ طَلَبًا ﴿41﴾وَاُحِیۡطَ بِثَمَرِہٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیۡہِ عَلٰی مَاۤ اَنۡفَقَ فِیۡہَا وَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَیَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمْ اُشْرِکْ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿42﴾
ترجمۂ کنز الایمان:یا اس کا پانی زمین میں د ھنس جائے پھر تو اسے ہر گز تلاش نہ کر سکے۔ اور اس کے پھل گھیر لئے گئے تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹیٹوں(اوندھے منہ ) پر گرا ہوا تھا اور کہہ رہا ہے اے کاش میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔(پ15، الکھف:41۔42)
(6) وَلَمْ تَکُنۡ لَّہٗ فِئَۃٌ یَّنۡصُرُوۡنَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ وَمَا کَانَ مُنۡتَصِرًا ﴿ؕ43﴾ہُنَالِکَ الْوَلَایَۃُ لِلہِ الْحَقِّ ؕ ہُوَ خَیۡرٌ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ عُقْبًا ﴿٪44﴾وَاضْرِبْ لَہُمۡ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ ہَشِیۡمًا تَذْرُوۡہُ الرِّیٰحُ ؕ وَکَانَ اللہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقْتَدِرًا ﴿45﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا۔ یہاں کھلتا ہے کہ اختیار سچے اللہ کا ہے اس کاثواب سب سے بہتراور اسے ماننے کا انجام سب سے بھلا۔ اوران کے سامنے زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے آسمان سے اتاراتو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہو کر نکلا کہ سوکھی گھاس ہو گیا جسے ہوائیں اڑائیں اور اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے۔ (پ15،الکھف:43تا45)
اللہ عزوجل نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے عظیم المرتبت ہونے اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوان کی رعایت پر راغب کرنے کے لئے یہ فرمایا تھا، اسی لئے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم فقراء کو عزت سے نوازتے اور اہلِ صفہ کی خاص عزت افزائی فرماتے۔
اہلِ صفہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ ہجرت کرنے والے وہ مہاجر فقراء تھے جو مسجد نبوی شریف کے چبوترے ميں رہائش پذیر تھے، ہر مہاجرآکر ان کے ساتھ شا مل ہوجاتا یہا ں تک کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی۔ یہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سخت تنگدستی کے باوجود بہت صابر تھے، مگر انہیں اللہ عزوجل کے اپنے اولیاء کے لئے تیار کردہ انعامات کے مشاہدے نے اس بات پر آمادہ کیا تھا کیونکہ اللہ عزوجل نے ان کے دلوں سے اغیار کے ہر تعلق کو مٹا دیا تھا اور