(2) وَّکَانَ لَہٗ ثَمَرٌ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَنَا اَکْثَرُ مِنۡکَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا ﴿34﴾ وَ دَخَلَ جَنَّتَہٗ وَ ہُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِیۡدَ ہٰذِہٖۤ اَبَدًا ﴿ۙ35﴾وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّ لَئِنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰی رَبِّیۡ لَاَجِدَنَّ خَیۡرًا مِّنْہَا مُنۡقَلَبًا ﴿36﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ پھل رکھتا تھا تواپنے ساتھی سے بولا اور وہ اس سے ردوبدل کرتا تھا میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اورآدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں۔اپنے باغ میں گیا اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو۔ اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو اور اگر میں اپنے رب کی طرف پھر گیا بھی تو ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گا۔(پ15،الکھف34تا36)
(3) قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَکَفَرْتَ بِالَّذِیۡ خَلَقَکَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰىکَ رَجُلًا ﴿ؕ37﴾لٰکِنَّا۠ ہُوَ اللہُ رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشْرِکُ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿38﴾وَلَوْلَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللہُ ۙ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ۚ اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡکَ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ۚ39﴾فَعَسٰی رَبِّیۡۤ
ترجمۂ کنز الایمان:اس کے ساتھی نے اس سے الٹ پھیر کرتے ہوئے جواب دیاکیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تجھے ٹھیک مرد کیا۔ لیکن میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کرتا ہوں۔ اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ کی مدد کا اگر تو مجھے اپنے سے مال واولاد میں کم دیکھتا تھا۔ تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ