Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
368 - 857
کیا۔'' (کیونکہ ابوسفیا ن اس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے) تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''کیا یہ بات تم قریش کے بزرگ اور ان کے سردار سے کہہ رہے ہو؟'' پھر جب حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کی خبر دی تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اے ابوبکر! شاید تم نے انہیں ناراض کر دیا ہے اگر تم نے انہیں ناراض کر دیا ہے تو بے شک اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔'' لہٰذا حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان تین صحابہ کرام علیہم الرضوان کے پاس تشریف لائے اور ان سے اِستفسار فرمایا:''اے میرے بھائیو! کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟'' انہوں نے عرض کی :''اے بھائی ! نہیں، اللہ عزوجل تمہاری مغفرت فرمائے۔''
(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل سلیمان وبلال وصہیب ،الحدیث: ۶۴۱۲،ص۱۱۱۸)
    فقراء خصوصاً ایمان لانے میں سبقت لانے والے فقراء صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے احترام کی عظمت کا اندازہ اللہ عزوجل کے اُس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مشرکین نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ان فقراء صحابہ کے پاس بیٹھنے سے جدا کرناچاہا اور کہا :''انہیں چھوڑ دیجئے کیونکہ ہم اس بات کوپسند نہیں کرتے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ان کے ساتھ بیٹھیں اور اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں چھوڑ دیا تو قریش کے معزز سردار آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر ایمان لے آئیں گے۔'' تواللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اور دور نہ کروانہیں جواپنے رب کوپکارتے ہیں صبح اورشام اس کی رضا چاہتے۔ (پ۷، الانعام:۵۲)

    جب کفار اس بات سے مایوس ہو گئے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ان فقراء صحابہ کرام علیہم الرضوان کو خود سے دور نہیں کریں گے تو انہوں نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے درخواست کی :''ایک دن ہمارے لئے مقرر فرما دیں اور ایک دن ان کے لئے۔'' اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی:
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ وَ لَا تَعْدُ عَیۡنٰکَ عَنْہُمْ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ
ترجمۂ کنز الایمان:اوراپنی جان ان سے مانوس رکھوجوصبح وشام اپنے رب کوپکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں اورتمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اورپرنہ پڑیں کیاتم دنیا کی زندگانی کا سنگار چاہو گے۔ (پ15، الکھف:28)

    یعنی ان سے منہ پھیر کراور اپنی نظرِکرم نہ فرما کر ان پر زیادتی نہ کیجئے اور دنیا پرست لوگوں کی صحبت کو طلب نہ کیجئے۔
Flag Counter