(2) وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿88﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اورمسلمانوں کواپنے رحمت کے پروں میں لے لو۔(پ14، الحجر:88)
(1)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا انس اورحضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ ذیشان ہے :''جس نے میرے کسی ولی کی توہین کی بے شک اس نے میرے ساتھ جنگ کا اعلان کیا مجھے کسی کام میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا اس مومن بندے کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے جو موت کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اپنے بندے کو تکلیف دینے کو ناپسند جانتا ہوں مگر اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں، میرا مؤمن بندہ دنیا سے بے رغبتی جیسے کسی اور عمل سے میرا قرب حاصل نہیں کرسکتا اور میرے فرض کردہ احکام کی بجاآوری جیسی میری کوئی دوسری عبادت نہیں کر سکتا۔''
(کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام، قسم الاقوال،الحدیث: ۱۶۷۶،ج۱،ص۲۰۰،بتقدم وتأخر)
(2)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے :''جس نے میرے کسی ولی سے عداوت رکھی میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کروں گا ، میرے کسی بندے نے میرے فرض کردہ احکام کی بجاآوری سے زیادہ محبوب شے سے میرا قرب حاصل نہیں کیا اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو مَیں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا فرماتا ہوں اور اگر کسی چیز سے میری پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ عطا فرماتا ہوں۔''
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع،الحدیث: ۶۵۰۲،ص۵۴۵)
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت ابوسفیان حضرت سیدنا سلمان، حضرت سیدنا صہیب اورحضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے گروہ کے پاس آئے تو ان حضرات رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ان سے کہا :''ابھی اللہ عزوجل کی تلواروں نے اس کے دشمنوں سے اپنا پورا حق وصول نہیں