Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
366 - 857
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! ہمیں ان کے اوصاف بیان فرمائیے تا کہ ہم انہیں پہچان سکیں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''وہ مختلف قبیلوں اور شہروں سے تعلق رکھتے ہوں گے، اللہ عزوجل کے لئے آپس میں محبت کرتے ہوں گے،اور اللہ عزوجل کا ذکر کرنے کے لئے ایک جگہ جمع ہوں گے اوراُس کا ذکر کریں گے۔''
(مجمع الزوائد، کتاب الاذکار،باب ماجاء فی مجالس الذکر ، الحدیث:۱۶۷۷۰،ج۱۰،ص۷۷)
(19)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے :''وہ مختلف شہروں اور قبیلوں سے تعلق رکھتے ہوں گے، ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ ہو گی، وہ اللہ عزوجل کے لئے آپس میں محبت اور دوستی رکھتے ہوں گے، اللہ عزوجل قیامت کے دن نور کے منبر بچھا کر انہیں ان پر بٹھائے گا، ان کے چہرے نوربار اور کپڑے نورکے ہوں گے، قیامت کے دن لوگ گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے مگر وہ نہ گھبرائیں گے، وہ اللہ عزوجل کے اولیاء ہیں جن پر نہ تو کوئی خوف ہو گا، نہ ہی کچھ غم۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۲۲۹۶۹،ج۸،ص۴۵۰)
(20)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص نے عرض کی :''قیامت کب قائم ہو گی؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے دریافت فرمایا :''تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟'' تو اس نے عرض کی ! تیاری تو کچھ نہیں کی، مگر میں اللہ اور اس کے رسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے محبت کرتا ہوں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''تم جس سے محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہو گے۔''حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمیں کسی چیز سے اتنی خوشی حاصل نہیں ہوئی جتنی خوشی شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمان سے ہوئی :''تم جس کے ساتھ محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہو گے۔'' حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں میں سیدعالم،نورمجسّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم، حضرت سیدنا ابوبکر اور حضرت سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے اُمید ہے کہ ان سے محبت کرنے کی وجہ سے میں انہیں کے ساتھ ہوں گا۔''
(صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب عمر بن خطاب۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۳۶۸۸،ص۳۰۰)
(21)۔۔۔۔۔۔ایک شخص نے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے مگر(تقوی وعمل میں) اس کے برابر نہیں ؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ ہو گا۔''
   (المرجع السابق،کتاب الادب، باب علامۃ الحبِّ فی اللہ ، الحدیث: ۶۱۶۹،ص۵۲۰)
Flag Counter