(16)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' قیامت کے دن عرش کے دائیں جانب اللہ عزوجل کے کچھ مہمان بیٹھے ہوں گے، اللہ عزوجل کے عرش کی دونوں جانبیں دا ہنی ہی ہیں، وہ نور کے منبروں پر ہوں گے، ان کے چہرے نوربار ہوں گے، وہ نہ تو انبیاء ہوں گے، نہ شہدا ء اور نہ ہی صدیقین ۔'' عرض کی گئی:''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! وہ کون لوگ ہوں گے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''وہ اللہ عزوجل کی عظمت کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے۔''
(مجمع الزوائد، کتاب الزھد،باب المحابین فی اللہ ،الحدیث: ۱۷۹۹۹،ج۱۰،ص۴۹۱)
(17)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو انبیاء ہیں اور نہ ہی شہداء، بلکہ انبیاء وشہدا ء بھی ان پر رشک کریں گے۔'' عرض کی گئی کہ ہمیں بتائیے:''وہ کون ہیں؟تاکہ ہم ان سے محبت کرنے لگیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''یہ وہ لوگ ہيں جو رشتہ داری اور کسی تعلق کے بغیر صرف اللہ عزوجل کے نور کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہوں گے، ان کے چہرے نور کے ہوں گے، وہ نور کے منبروں پر ہوں گے، جب لوگ خوفزدہ ہوں گے تو انہیں کوئی خوف نہ ہو گا اور جب لوگ غمزدہ ہوں گے تو انہیں کچھ غم نہ ہوگا۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی :
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ62﴾
ترجمۂ کنز الایمان:سن لوبے شک اللہ کے ولیوں پرنہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)
(صحیح ابن حبان، کتاب الصحۃ والمجالسۃ ،باب ذکر وصف المتحابین فی اللہ ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۵۷۲،ج۱،ص۳۹۰)
(18)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل قیامت کے دن ایک ایسی قوم کو ضرور اٹھائے گا جن کے چہرے نورانی ہوں گے، وہ موتیوں کے منبروں پر ہوں گے، لوگ ان پر رشک کریں گے، وہ نہ تو انبیاء ہوں گے،نہ ہی شہداء۔'' تو ایک اعرابی نے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی