(9)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''بے شک آدمی کے ایمان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی آدمی سے صرف اللہ عزوجل کے لئے محبت کرے، اس کی محبت کسی مال کے عطیہ کرنے کی وجہ سے نہ ہو تو یہی ایمان ہے۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۲۱۴،ج۵،ص۲۴۵)
(10)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب دو دوست اللہ عزوجل کے لئے محبت کرتے ہیں تو ان میں سے جو اپنے ساتھی سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ اللہ عزوجل کا زیادہ محبوب ہوتا ہے۔''
(المستدرک،کتاب البروالصلۃ،باب اذا احب احدکم۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۴۰۳،ج۵،ص۲۳۹،احبہمابدلہ''افضلہما'')
(11)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بہترین رفیق وہ ہے جو اپنے دو ستوں کے لئے زیادہ بہتر ہو اور اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسیوں کے لئے زیادہ بہتر ہو۔''
(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی حق الجوار،الحدیث: ۱۹۴۴،ص۱۸۴۷)
(12)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ''میرے لئے آپس میں محبت کرنے والوں اور میرے لئے مل کر بیٹھنے والوں، میرے لئے ایک دوسرے سے ملنے والوں اور میری راہ میں خرچ کرنے والوں کی محبت میرے ذمۂ کرم پر ہو گئی۔''(یعنی میں ان سے ضرور محبت کروں گا۔)
(المستدرک،کتاب البر والصلۃ ، باب احب لاخیک المسلم۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۷۳۹۴،ج۵،ص۲۳۵)
(13)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:''میری عزت وجلال کے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کے لئے نور کے منبر ہوں گے اور انبیاء وشہداء کرام بھی ان پر رشک کریں گے۔''
(جامع الترمذی،ابواب الزھد،باب ماجاء فی الحب فی اللہ ،الحدیث:۲۳۹۰،ص۱۸۹۲)
(14)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان عاليشان ہے کہ اللہ عزوجل