Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
363 - 857
اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے :
قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ
ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب تم فرمادوکہ لوگواگرتم اللہ کودوست رکھتے ہوتومیرے فرمانبردارہوجاؤاللہ تمہیں دوست رکھے گا۔(پ 3، ال عمران:31)
(المستدرک،کتاب التفسیر،باب اخبار القتل عوض الحصین۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۳۲۰۲،ج۳،ص۷)
(4)۔۔۔۔۔۔حضورنبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مؤمن کے علاوہ کسی سے دوستی نہ کرو اور تمہارا کھانا متقی ہی کھائے۔''
(جامع الترمذی، ابواب الزہد،باب ماجاء فی صحبۃ المومن، الحدیث: ۲۳۹۵،ص۱۸۹۲)
تنبیہ:
    ان دونوں کو گذشتہ اور آئندہ آنے والی صحیح احادیث کے تقاضا کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ 

(5)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن کے ساتھ محبت کریگا اگرچہ ان جیسے عمل نہ بھی کرے۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک بن نضر، الحدیث:۱۳۸۲۹،ج۴،ص۵۳۳،ملخصاً)
    اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ بات تو لازم ہے کہ اس نے فاسق سے اس کے فسق کی وجہ سے محبت کی اور صالحین سے ان کی نیکی کی وجہ سے بغض رکھا، لہٰذا یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جس طرح فسق کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اسی طرح اس سے محبت کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے، صالحین سے بغض رکھنے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے، کیونکہ ان بدکاروں سے محبت اورنیکوکاروں سے بغض رکھنا اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دینے پر دلالت کرتا ہے اور اسلام سے بغض رکھنا کفر ہے، لہٰذا مناسب بھی یہی ہے کہ اس کی طرف رسائی کے ذرائع بھی کبیرہ گناہ ہوں۔
اللہ عزوجل کے لئے باہم محبت کرنے والوں کے متعلق احادیث کریمہ:
(6)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تین خصلتیں ایسی ہیں جس میں ہوں گی وہ ان کے سبب ایمان کی حلاوت پالے گا: (۱)جس کے نزدیک اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں(۲)جو کسی بندے سے محبت کرے اور اس کی محبت صرف اللہ عزوجل کے لئے ہو اور (۳)وہ جو اللہ عزوجل کے اسے کفرسے نکالنے کے بعد کفر میں لوٹنے کو اسی طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔''
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان خضال من اتصف۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۶۵،ص۶۸۸)
Flag Counter