| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
وہ روایات جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عہدوں کو پورا کرنا چاہے اور انہیں پورا نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے وہ درج ذیل ہیں: (2)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس شخص میں یہ چار خصلتیں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نفاق کی ایک علامت پائی جائے گی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، اور وہ خصلتیں یہ ہیں: (۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے (۳)جب عہد کرے تو دھوکا دے اور (۴)جب کسی سے جھگڑے تو گالی گلوچ بکے ۔''
(صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب علامات المنافق،الحدیث: ۳۴،ص۵)
(3)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' قیامت کے دن ہر خائن (کی پہچان) کے لئے ایک جھنڈا ہو گا، کہا جائے گا یہ فلاں کی خیانت ہے۔''
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد، باب تحریم الغدر، الحدیث:۴۵۳۳،ص۹۸۶)
(4)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے :''ميں قیامت کے دن تین افراد کامقابل ہوں گا: (۱)وہ شخص جس کو میری خاطر کچھ دیا گیا ہو لیکن وہ اس میں خیانت کرے (۲)وہ شخص جو کسی آزاد انسان کو بیچ دے اور پھر اس کی قیمت کھالے (۳)وہ شخص جس نے کوئی مزدور اُجرت پر لیا اور پھر اس سے کام تو پورا لیا لیکن اس کی اُجرت اسے نہ دی۔''
(صحیح البخاری، کتاب البیوع،باب اثم من باع حراً،الحدیث: ۲۲۲۷،ص۱۷۳)
(5)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے اللہ عزوجل کی اطاعت چھوڑدی وہ قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس (عذاب سے بچنے کی) کوئی حجت نہ ہو گی، اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت کا پٹہ نہ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔''
(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ،باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۴۷۹۳،ص۱۰۱۰)
تنبیہ:
عہد شکنی کو کبیرہ گناہ شمار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو کئی علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہ شمار کیا ہے، البتہ ان میں سے بعض نے اس کو عہد شکنی اور بعض نے وعدہ خلافی کا نام دیا۔ سوال:دونوں اقوال یا تو آپس میں ایک جیسے ہوں گے یا پھر ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے، اس بناء پر ہر ایک کو کبیرہ شمار کرنا مشکل ہے کیونکہ شافعی مذہب میں وعدہ پورا کرنا مستحب ہے واجب نہیں، جب کہ عہد پورا کرنے کو اللہ عزوجل نے