Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
361 - 857
واجب قرار دیا اور وعدہ خلافی کو حرام قرار دیا، لہٰذا جو چیز مستحب ہو اس کی مخالفت کرنا تو جائز ہوتا ہے لیکن جو چیز واجب یا حرام ہو اس کی مخالفت کبھی تو کبیرہ ہوتی ہے اور کبھی صغیرہ، تو پھر مطلقاً وعدہ پورا نہ کرنے کو کیسے کبیرہ گناہ کہا جا سکتا ہے؟ 

جواب: اگر تو وعدہ پورا نہ کرنے سے مراد یہ ہو کہ سرے سے پورا ہی نہ کیا جائے تو یہ کبیرہ گناہ ہے اور اس لحاظ سے اسے ایک الگ مستقل کبیرہ گناہ شمار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اسے دوسرے کبیرہ گناہوں میں سے کسی کے ضمن میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ 

    وہ افراد جنہوں نے اسے عہدشکنی کا نام دیا ہے ان کے نزدیک نذر وغیرہ کو پورا کرنا واجب ہو گا اور اس کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے کیونکہ نذر کو پورا کرنا شرع نے واجب قرار دیا ہے اور اسی طرح نماز، زکوٰۃ، حج یا روزے کو ترک کر دینا بھی کبیرہ گناہ ہے اس کا بیان(ان شاء اللہ عزوجل) آئندہ آئے گا۔

     وہ افراد جو کہتے ہیں کہ یہ وعدہ خلافی ہے تو ان کے اس قول کو کسی مخصوص چیز پر محمول کیا جائے گا کہ جو وضاحت کے بغیر معلوم نہ ہو سکتی ہو، مثلاً کوئی شخص ایک امام کی بیعت کرے پھر بغیر کسی وجہ کے اس کے خلاف لڑنے کی خاطر نکل کھڑا ہو تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔

(6)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''تین افراد ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل قیامت کے دن نہ کلام فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک فرمائے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا۔''اس حدیث پاک میں آگے چل کر ارشاد فرمایا :'' وہ شخص جو کسی امام کی بیعت دنیا کی خاطر کرے یعنی اگر وہ اسے اس کی خواہش کے مطابق دے تو اس سے وفا کرے اور اگر کچھ نہ دے تو بے وفائی کرے۔''
 (صحیح مسلم،کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۹۷،ص۶۹۶)
    جبکہ بخاری شریف کی روا یت میں یہ الفاظ ہیں:''وہ شخص جس کو میری خاطر کچھ دیا گیا ہو لیکن وہ اس میں خیانت کرے ۔''
 (صحیح البخاری، کتاب البیوع،باب اثم من باع حراً،الحدیث: ۲۲۲۷،ص۱۷۳)
    اور مسلم شریف کی روا یت کے الفاظ یہ ہیں:''جس نے اللہ عزوجل کی اطاعت ترک کردی ۔''
 (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ،باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۴۷۹۳،ص۱۰۱۰)
 (7)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو یہ پسند کرتا ہے کہ وہ جہنم سے دور ہو جائے اور جنت میں داخل ہوجائے تو اسے چاہے کہ جنت کا مقصود بھی پورا کرے یعنی اللہ عزوجل اور قیامت کے دن پر ایمان لائے، اوراس پرلازم ہے کہ جومعاملہ اپنے لئے پسند کرتاہووہی دوسروں کے ساتھ کرے اورجو شخص ہاتھ پرہاتھ رکھ کردل
Flag Counter