اور اس صحیح حدیث سے خیارمجلس کی تخصیص ثابت ہے :''دوخریدوفروخت کرنے والوں کوجداہونے سے پہلے اختیارحاصل ہے۔''
(السنن الکبری للامام بیہقی ، کتاب البیوع، باب المتبایعان بالخیار۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۱۰۴۳۴،ج۵،ص۴۴۲)
(اوراکٹھی طلاقوں کے جائزہونے کی قیاس جلی سے تخصیص ثابت ہے کہ)اگرایک طلاق کودوسری طلاق کے ساتھ جمع کرناحرام ہوتا تو وہ نافذنہ ہوتی پس جب اس کانافذہونابالاجماع ثابت ہے تویہ اس کے حلال(یعنی جائز)ہونے پردلیل ہے اور عقود کا نافذ ہو جانا اس کے حلال ہونے کاتقاضاکرتا ہے اوراس پروہ صحیح حدیث پاک بھی دلالت کرتی ہے :'' لعان کرنے والے نے نافذ ہونے کا گمان کرتے ہوئے اکٹھی تین طلاقیں دیں اورحضورنبی کریم،رء ُوف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایساکرنے سے منع نہ فرمایا۔'' اگرتین طلاقوں کواکٹھاکرناحرام ہوتاتوپھرتووہ حرام کام کرنے والاہوتاجس سے اسے منع کرناواجب ہوتاپس جب حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایساکرنے سے منع نہ فرمایاتویہ اس کے جائزہونے پردلیل ہے۔
یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے لغو کام سے کیوں نہ روکااس لئے کہ ہم نے اس کی طرف یوں اشارہ کر دیا ہے کہ وہ واقع کے اعتبار سے لغو تھی مگر اس کے گمان میں لغو نہ تھی کیونکہ اس نے گمان کیا تھا کہ اس طرح اس پر بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی پس اس نے اکٹھی تين طلاقیں دے دیں اوریہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے درمیان یہ بات متعارف تھی کہ اکٹھی تين طلاقیں دیناحرام نہيں وگرنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اسے ایسا کرنے سے ضرور منع فرماتے ۔
یہ سب بیان کرنے کا مقصد اصل میں احکام پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا مکلف بنانا ہے، ان ساری چیزوں کو عقود اس وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے ان کے حکم کو حتمی اور پختہ قرار دیا ہے لہٰذا ان سے کسی بھی صورت میں چھٹکارا ممکن نہیں۔ ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ ایسے عقود ہیں جو عام طور پر لوگوں کے درمیان طے پاتے رہتے ہیں۔