Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
358 - 857
وَالْمَوْقُوۡذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیۡحَۃُ وَمَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمْ ۟ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسْتَقْسِمُوۡا بِالۡاَزْلَامِ ؕ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ ؕ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلَامَ دِیۡنًا ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿3﴾یَسْئَلُوۡنَکَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمْ ؕ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُمۡ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیۡنَ تُعَلِّمُوۡنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللہُ ۫ فَکُلُوۡا مِمَّاۤ اَمْسَکْنَ عَلَیۡکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیۡہِ ۪ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ ﴿4﴾
سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیرخدا کا نا م پکاراگیا اور وہ جو گلا گھونٹنے سے مرے اوربے دھار کی چیزسے مارا ہوااورجوگرکرمرا اور جسے کسی جانورنے سینگ مارا اورجسے کوئی درندہ کھاگیا مگرجنہیں تم ذبح کر لو اور جو کسی تھان پرذبح کیا گیا اورپانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کام ہے آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس ٹوٹ گئی تو ان سے نہ ڈرواورمجھ سے ڈروآج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کا مل کردیا اور تم پراپنی نعمت پوری کردی اورتمہارے لیے اسلام کودین پسندکیا تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچارہویوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے توبے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ،اے محبوب تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال ہواتم فرمادوکہ حلال کی گئیں تمہارے لیے پاک چیزیں اورجوشکاری جانورتم نے سدھا لیے انہیں شکارپردوڑ اتے جوعلم تمہیں خدا نے دیا اس سے انہیں سکھا تے توکھاؤاس میں سے جووہ مارکرتمہارے لیے رہنے دیں اوراس پراللہ کانام لواوراللہ سے ڈرتے رہوبے شک اللہ کوحساب کرتے دیرنہیں لگتی۔(پ6، المآئدۃ:1تا4)
    حضرت سیدنا امام اعظم علیہ رحمۃاللہ الاکرم کے نزدیک اس آیت کا حکم عام ہے اس سے انہوں نے عید کے دن کے روز ے کی نذر صحیح ہونے پراستدلال کیا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے ان فرامین:
''یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ
ترجمۂ کنز الایمان: اپنی منتیں پوری کرتے ہيں۔(پ۲۹،الدھر:۷)''اور
''وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَاعٰہَدُوْا
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کريں۔''(پ۲،البقرۃ:۱۷۷) کے ساتھ مزید پختہ کیانیز حدیث پاک میں ہے کہ حضور نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اپنی نذرکو پورا کرو۔''
 (صحیح البخاری، کتاب الایمان والنذور،با ب اثم من لایفی بالنذر،الحدیث:۶۶۹۷،ص۵۵۹)
    یوں ہی آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے خیارِمجلس کے انکارپر بھی استدلال کیاہے کیونکہ عقدمنعقدہوچکا(تواختیارباقی نہ رہے گا)نیز اکٹھی دی جانے والے تین طلاقوں کی حرمت پربھی استدلال کیاہے کیونکہ نکاح ایک عقد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
''اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اپنے قول پورے کرو۔''(پ۶، المآئدۃ:۱)کی وجہ سے ختم کرناحرام ہے پھریہ کہ ایک طلاق کا
Flag Counter